ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کا انسداد پولیو مہم میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے وا لے اہلکار کی تنخواہ سے کٹوتی کا حکم

جمعرات اپریل 18:34

کوہاٹ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) ڈپٹی کمشنر کوہاٹ خالد الیاس نے پولیوویکسی نیشن مہم میں خراب کارکردگی کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اہلکار کی تنخواہ سے 5دن کی کٹوتی اور ریفیوزل کے حقیقی کیسز سامنے لانے اورفیلڈسٹاف میںزیادہ سے زیادہ خواتین رضاکاروں کی شمولیت کے احکامات صادر کیے۔انہوں نے متعلقہ حکام کومتنبہ کیاہے کہ پولیو قومی مسئلہ ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرناممکن نہیںلہذاآئندہ خراب کارکردگی پر اس سے بھی بڑا ایکشن ہوگااورکسی سے کوئی رعایت نہیں ہوگی چاہے بلحاظ عہدہ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا،کوئی کتنا ہی بااثر ہو یا تعلقات رکھتاہو۔

یہ احکامات انہوں نے جمعرات کواپنے دفتر میں انسداد پولیو سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ڈی ایچ اوکوہاٹ،ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو 9سے 12اپریل تک ہونے والی 4روزہ پولیو مہم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اورمہم کے بعد حاصل ہونے والے اعداد ووشماراوراسے حوالے سے اٹھائے گے اقدامات کے بارے میں بتایاگیا۔

اجلاس میں اس بات پربھی زور دیا گیا کہ پولیو سے متعلقہ حکام اور فیلڈ سٹاف کے مابین اعدادوشمار کے تبادلے کے لئے بروقت اور مربوط روابط ہونے چاہئے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو مہم میں ریفیوزل کیسزیااس دوران بچوںکوچھپانایا دوسری جگہ منتقل کرنا قومی جرم ہے اور یہ ہر گز قابل برداشت نہیںلہذاجو بھی ایساکرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہو گی کیونکہ اس سے پولیو کاخطرہ مزید بڑھ جاتاہے ۔

خالد الیاس نے متعلقہ حکام کوسختی سے ہدایت کی کہ آئندہ مہم کے دوران کوئی بچہ بھی قطرے پلانے سے نہیں رہنا چاہیے اورموبائل ٹیموں میں زیادہ سے زیادہ خواتین رضاکاروں کو شامل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ریفیوزل کیسز فوری طور پر رپورٹ کیے جائیں تاکہ اس سلسلے میں بروقت اقدامات اٹھائے جاسکیں۔ڈپٹی کمشنر نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

متعلقہ عنوان :