شام میں قیام امن کے لیے بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنا ہو گا: پروفیسر ساجد میر

ایران اسدحکومت اور یمن میں حوثی باغیوں کوہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ بند کرے

جمعرات اپریل 20:11

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنا ہو گا ۔ ایران اسدحکومت اور یمن میں حوثی باغیوں کوہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ بند کرے۔ مرکزی دفتر میں علماء کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حق میں نہیں کہ امریکہ اور روس شام کی عوام کا قتل عام کریں ۔

بڑی طاقتوںکی لڑائی میں بے گناہ عوام کا مارا جانا باعث تشویش ہے ۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے سیاسی،اقتصادی اور عسکری ذرائع کو بروئے کارلانے کا پورا حق ہے ۔ حوثی باغیوں کی طرف روزانہ کی بنیاد پر سعودی شہروں پر میزائل حملے کیے جارہے ہیں ۔

(جاری ہے)

جس پر حرمین شریفین سے محبت کرنے والے ہر مسلمان کو تشویش ہے ۔

پروفیسر ساجد میرنے کہا کہ بشار الاسد نے شام کے عوام پر ظلم ڈھایا اور معصوم بچوں کو بھی معاف نہیں کیا وہاں بشار لا اسدکی صورت میں ایک ہی اقلیتی فرقے کے خاندان کی حکومت اکتالیس سال سے چلی آرہی ہے جعلی انتخابات کرائے جاتے رہے۔ اکثریت پر جبر اور طاقت کے زور سے حکومت کی جاتی رہی ،جو بین الاقوامی، انسانی اوراخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔

اقتدار کی ہوس کے باعث اب تک لاکھوں شامی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ لاکھوں ملک سے ہجرت کر کے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی اس جنگ میں ایران شروع دن سے اسلحہ اور پاسداران انقلاب بھیج کر بشار کی مدد کر رہا ہے۔ اس جنگ میں لاتعداد پاسداران جنگ میں مارے بھی گئے۔ کسی ملک کو کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے ۔

ان کا کہنا تھا کہ شام کے مسئلہ کا حل صرف جمہوریت میں ہے۔ جس کے ذریعے پر امن انتقال اقتدار ممکن ہو سکتا ہے اور امن کی صورت تب ہی نکل سکتی ہے جب بشار الاسد معزول ہو گا اور دوسرے گروہوں بھی غیر مسلح ہوں۔ یہ بشار الاسد کے لیے ایک محفوظ راستہ ہے۔ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی فریقین پر مبنی ایک نگران عارضی حکومت کا قیام اور آزادنہ انتخابات کے ذریعے اپنے نمائندے چننے کا اختیار ہی شام کے مسئلے کا حل ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ امریکہ نے روس کو شام کی گوریلا جنگ میں افغانستان کی طرح پھنسا دیا ہے۔