رابعہ کیس میں پولیس نے روایتی نااہلی کے تحت کیس کا رخ بدل دیا ہے ،حلیم عادل شیخ

جمعرات اپریل 20:34

رابعہ کیس میں پولیس نے روایتی نااہلی کے تحت کیس کا رخ بدل دیا ہے ،حلیم ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) پی ٹی آئی سندھ کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ رابعہ کیس میں پولیس نے روایتی نااہلی کے تحت کیس کا رخ بدل دیا اور بچی کے دادا سے زبردستی ایف آئی آر درج کرواکر دو بے گناہ شہریوں کو گرفتار کیا گیا ، جن کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر پولیس نے اصل قاتلوں کو گرفتار نہ کیا تو پورے سندھ میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی آر کالونی سے رابعہ مگسی کو اغواء کیا گیا ۔ والد کے کہنے پر پولیس نے ایف آئی آر درج نہ کی ۔ بعد میں بچی کی لاش منگھوپیر سے ملی ۔ سیاسی دباؤ کو دیکھ کر ایس ایس پی نے بچی کے دادا کو زبردستی گھر سے اٹھا کر ذاتی جھگڑوں کے بارے میں معلومات حاصل کی اور دو بے گناہ شہریوں کو گرفتار کیا ۔

(جاری ہے)

عوام کی جانب سے رابعہ کے انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے شہریوں کے اوپر فائرنگ کی گئی ، جس کے نتیجے میں سابق ایم پی اے مولانا عمر صادق کے بھتیجے کو شہید کر دیا گیا اور پی ٹی آئی کے کارکنان کو شدید زخمی کیا اور مظاہرین کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کیں ۔ پولیس چاہے ماڈل ٹاؤن کی ہو یا کراچی کی ، اس نے اپنی روایت برقرار رکھی ۔ رابعہ مگسی کے انصاف کے لیے جمعہ کو بنارس چوک پر احتجاج مظاہرہ ہو گا ۔ اگر پھر بھی پولیس کی جانب سے سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو اتوار کو پورے سندھ میں مظاہرے ہوں گے اور وزیر اعلی ہاؤس کا گھیرا ؤ کیا جائے گا ۔