ملک میں 2018 ء میں بجلی کی پیداوار 15280میگاواٹ

ملک کے 60فیصد فیڈرز پر تاحال لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ، وزارت توانائی پاور ڈویژن کے اعدادوشمار جاری

جمعرات اپریل 21:08

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وزارت توانائی پاور ڈویژن نی2013اور 2018میں بجلی کی پیداوار اور ڈیمانڈ کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کردئیے ہیں جس کے مطابق 2013میں بجلی کی پیداوار 9473میگاواٹ جبکہ 2018میں 15280میگاواٹ ہے جبکہ 2017میں بجلی کی پیداوار 13245میگاواٹ تھی جو رواں سال کے ماہ اپریل کے مقابلے میں تقریباً 2ہزار میگاواٹ کم تھی جبکہ دوسری جانب ملک کے 60فیصد فیڈرز پر تاحال لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔

تفصیلات کے مطابق وزارت توانائی پاور ڈویژن نے ملک میں بجلی کی پیداوارگزشتہ دور حکومت کے معاملے میں چھ ہزار میگاواٹ زائد پیدوارکا اعلامیہ جاری کیا ہے وزارت کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی ڈیمانڈ 15790میگاواٹ جبکہ پیداوار 16000میگاواٹ ہے۔ 10فیصد یا اس سے کم لائن لاسز والے فیڈرز پر زیرو لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ باقی فیڈر پر دو گھنٹے سے 12گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے ۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ملک کے 60فیصد فیڈرز پر ابھی بھی گھنٹوں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ وزارت توانائی پاور ڈویژن کے مطابق لوڈ شیڈنگ کی بڑی وجہ ہائی لائن لاسز ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں جہاں لائن لاسز 40فیصد سے زائد ہیں 8گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے لوڈ مینجمنٹ پلان کے بعد وفاقی وزیر برائے توانائی پاور ڈویژن اویس لغاری نے کہا تھا کہ اگر ملک میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائیے جائے تو سالانہ ساڑھے چار سو ارب روپے کا نقصان ہوگا جس کو برداشت کرنا حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ شکیل)

متعلقہ عنوان :