شعبہ تعلیم کو صوبوں کے حوالے کرنا بڑی غلطی، ملک میں نظام تعلیم مذید طبقاتی نظام کا شکار ہوگیا،سردار یوسف

حکومت دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کیلئے بھر پور اقدامات کر رہی ہے ، وفاقی سطح پر تعلیم کے لئے مختص بجٹ میں دینی مدارس کو بھی شامل کیا جائے ،یکساں نظام صلواة کے حوالے سے تیار کئے جانے والے ڈرافٹ بل میں سزائیں کسی عالم دین یا موذن کیلئے نہیں بلکہ عوام کیلئے ہیں، وفاقی وزیر مذہبی امور کی پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 22:06

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہاہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت تعلیم کے شعبے کو صوبوں کے حوالے کرنا بہت بڑی غلطی ہے اس کی وجہ سے ملک میں نظام تعلیم مذید طبقاتی نظام کا شکار ہوگیا ہے تمام سیاسی جماعتوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کر نا چاہیے ، حکومت دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کیلئے بھر پور اقدامات کر رہی ہے اورسفارش کی گئی ہے کہ وفاقی سطح پر تعلیم کے لئے مختص بجٹ میں دینی مدارس کو بھی شامل کیا جائے ،یکساں نظام صلواة کے حوالے سے تیار کئے جانے والے ڈرافٹ بل میں سزائیں کسی عالم دین یا موذن کیلئے نہیں بلکہ عوام کیلئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ محمدیہ میں وفاقی المدارس کے زیر انتظام ہونے والے سالانہ امتحانات کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ وفاقی المدارس العربیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا حنیف جالندھری ،مولانا ظہور احمد علوی اور مولانا عبدالقدوس محمدی سمیت دیگر علماء کرام بھی موجود تھے وفاقی وزیر نے کہاکہ 18 آئینی ترمیم کے تحت تعلیم کے شعبے کو بھی صوبو ں کے حوالے کر دیا گیا جس کی وجہ سے ملک میں یکساں نظام تعلیم کا خواب ادھورا رہ گیا ہے اور چاروں صوبے اپنی مرضی کے مطابق تعلیم کے شعبے کو چلا رہے ہیں انہوںنے کہاکہ تعلیم کے نظام کو صوبوں کے حوالے کرنا ایک بڑی غلطی ہے اور اس غلطی کو سدھارنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کوششیں کرنی چاہیے تاکہ تعلیم کا شعبہ دوبارہ وفاق کے زیر انتظام ہو اور چاروں صوبے اس میں وفاق کی معاونت کریں سردار یوسف نے کہاکہ وفاقی دارلحکومت میں یکساں نظام صلواة علماء کرام اور آئمہ مساجد کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں جو کیلینڈر تیار کیا گیا ہے وہ بھی علماء کرام کا دیا ہوا ہے انہوںنے کہاکہ یکساں نظام صلواة کے حوالے سے قانون سازی کیلئے جو ڈرافت تیار کیا گیا ہے اس میں سزائوں کا تعلق علماء کرام ،آئمہ مساجد اور موذن حضرات سے نہیں ہے بلکہ یہ سزائیں بھی اسی طرح ڈرافٹ کا حصہ ہونگی جس طرح دیگر قانون سازی میں سزائیں ہوتی ہیں انہوںنے کہاکہ اس حوالے ہے یہ تاثر دینا غلط ہے کہ یہ سزائیں علماء کیلئے ہیں انہوں نے کہاکہ دینی مدارس میں اصلاحات کے حوالے سے قومی سلامی کے لئے وزیر اعظم کے مشیر سمیت وزارت تعلیم اور وزارت مذہبی امور نے سفارشات تیار کرکے حکومت کو بھجوائی ہیں جس میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ جس طرح حکومت بجٹ میں تعلیم کیلئے رقم مختص کرتی ہے اسی طرح دینی مدارس کیلئے بھی رقم مختص کی جائے انہوںنے کہاکہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والوں کی اسناد کو بھی عصری تعلیمی اداروں کی طرح تسلیم کیا جا ئے انہوں نے کہاکہ وفاق المدارس کے زیر اہتما م ہونے والے امتحانات جس منظم انداز سے پورے ملک اور بیرون ممالک میں ہو رہے ہیں وہ عصری تعلیمی اداروں کیلئے ایک قابل تقلید مثال ہے اور اس بہترین نظام پر وفاق المدارس کے زمہ داران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں انہوںنے کہاکہ پاکستان سے ہر سال 73ہزار سے زائد مرد خواتین کو حافظ بننا پاکستان کیلئے پوری دنیا میں ایک فخر کی علامت ہے حکومت دینی مدارس کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھے گی ۔

۔۔۔اعجاز خان