سپریم کورٹ نے ضلع خوشاب کے ضلع کونسل کے انتخابات کے حوالے سے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

جمعرات اپریل 23:33

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے ضلع خوشاب کے ضلع کونسل کے انتخابات کے حوالے سے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جمعرات کو کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔درخواست گزار امیر حیدر سانگا نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کررکھاہے۔ دوران سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سمیرا ملک نے ضلع خوشاب کے چیئرپرسن کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی، امیر حیدر سانگا کی درخواست پرالیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخاب کاحکم دیا جبکہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔

سمیرا ملک کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شفاف طریقے سے الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

(جاری ہے)

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی ممبر کہے کہ میراووٹ برائے فروخت ہے توالیکشن کمیشن کیاکرے گا۔ سمیر ا ملک کے وکیل نے کہا کہ نتیجہ آنے سے پہلے الیکشن کمیشن انتخابی عمل روک سکتاہے۔ درخواست گزار امیر حیدر سانگا کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سیکرٹ بیلٹنگ ووٹر کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شکایت والی تحریر کس نے لکھی تھی۔ پریزائڈنگ آفیسر اسرار احمد نے کہا کہ میں سکول ٹیچر ہوں، تحریر میں نے لکھی تھی، ضلع کونسل کے الیکشن کے دوران ووٹرز نے ووٹ والی پرچیاں پولنگ ایجنٹس کودکھائیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے بعد میں اپنابیان کیوں بدلا، سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا تو آپ کی نوکری بھی جاسکتی ہے۔

پریزائنڈنگ آفیسر نے جواب دیا کہ حالات و واقعات ایسے تھے۔ جسٹس قاضی فائزنے کہا کہ آپ بچوں کوکیاتعلیم دیتے ہوں گے، لوگوں کاایمان ہی ختم ہوگیا ہے۔ سمیرا ملک کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے مجھے سنے بغیر فیصلہ کیا۔ الیکشن کمیشن کی ڈی جی لاء نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کوسپورٹ کرتے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کاحکم دیاتھا۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔