ملک میں جمہوریت نہیں،بد ترین ڈکٹیٹر شپ،اس پارلیمنٹ میں دم خم نہیں' نوازشریف

ملک میں جو ہو رہا یہ جوڈیشل مارشل لاء سے کم نہیں،22کروڑ عوام کی زبان بندی کسی طور قبول نہیں،چیف جسٹس روز اسپتال جاتے ہیں اور سبزیوں کے نرخوں کی بات کرتے ہیں ،ان کو چاہئے کہ کسی مظلوم کے گھر بھی جائیں جس کے مقدمے کا فیصلہ 20سال سے نہیں ہوا،حالیہ تین فیصلے جسٹس منیر کے فیصلے سے بھی بدترین ہیں،سراج الحق کی بات بہت معنی خیز ہے،عمران خان اپنے ایم پی ایز کی سرزنش تو کر رہے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کس کے کہنے پر سینیٹ میں ووٹ دئیے گئے، احتساب عدالت میں صحا فیو ں سے غیر رسمی گفتگو

پیر اپریل 15:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں ثاقب نثار کی بدترین ڈکٹیٹر شپ ہے،ملک میں جو ہو رہا یہ جوڈیشل مارشل لاء سے کم نہیں،آئے روز ایسے فیصلے دئیے جاتے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں،22کروڑ عوام کی زبان بندی کسی طور قبول نہیں،،چیف جسٹس روز اسپتال جاتے ہیں اور سبزیوں کے نرخوں کی بات کرتے ہیں ،ان کو چاہئے کہ کسی مظلوم کے گھر بھی جائیں جس کے مقدمے کا فیصلہ 20سال سے نہیں ہوا،حالیہ تین فیصلے جسٹس منیر کے فیصلے سے بھی بدترین ہیں،،سراج الحق کی بات بہت معنی خیز ہے،،عمران خان اپنے ایم پی ایز کی سرزنش تو کر رہے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کس کے کہنے پر سینیٹ میں ووٹ دئیے گئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز احتساب عدالت میں صحا فیو ں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت نہیں ثاقب نثار کی بدترین ڈکٹیٹر شپ ہے،ملک میں جو ہو رہا یہ جوڈیشل مارشل لاء سے کم نہیں، آئے روز ایسے فیصلے دئیے جاتے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں،اگر خود بات کرتے ہیں تو دوسرے کا جواب سننے کی بھی ہمت ہونی چاہیے، 22 کروڑ عوام کی زبان بندی کسی طور قبول نہیں، اتنی پابندیاں مارشل لاء میں نہیں لگائی گئیں جو اب دیکھنے آرہی ہیں، یہ صورتحال پاکستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھی، اس کیس میں مجھے سزا دلوانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے، اس لیے بھی سزا دلوانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ 5ججز کو سرخرو کیا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں کوئی دم خم نہیں، انشاء اللہ اگلی پارلیمنٹ میں فیصلے ہوں گے،،چیف جسٹس روز اسپتال میں جاتے ہیں اور سبزیوں کے نرخوں کی بات کرتے ہیں ،،چیف جسٹس کسی مظلوم کے گھر بھی جائیں جس کے مقدمے کا فیصلہ 20سال سے نہیں ہوا، یہ آپ کا کام نہیں کہ وزیراعلیٰ کو طلب کرلیں اور حکومت کو لائن میں کھڑا کردیں۔سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ تین فیصلے جسٹس منیر کے فیصلے سے بھی بدترین ہیں ،ترقی کا یہ صلہ دیا گیا کہ نیب کیسز بنادئیے گئے،ملک میں دہشتگردی کیخلاف کامیاب جنگ لڑی، لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے تھی، جلسے کے گراؤنڈ میں پانی چھوڑا گیا ہے تو یہ نہایت افسوسناک عمل ہے،شہبازشریف میرے کہنے پر سندھ اور خیبر پختونخوا گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سراج الحق کی بات بہت معنی خیز ہے،،عمران خان اپنے ایم پی ایز کی سرزنش تو کر رہے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کس کے کہنے پر سینیٹ میں ووٹ دئیے گئے،یہ لوگ کیا تبدیلی لائیں گے جو خود بے اسلوبی کی سیاست کر رہے ہیں۔۔عمران خان چوہدری سرور سے متعلق بھی بتائیں کہ انہیں ووٹ کیسے ملے اور آخر انہوں نے تیر کو ووٹ کس حیثیت سے دئیے،،سینیٹ انتخابات میں صرف (ن) لیگی اتحادیوں نے شفاف طریقے سے ووٹ دئیے۔

نوازشریف نے مزید کہا کہ ہم تو کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لندن گئے اور جاکر فوراً واپس آئے ،بیگم کلثوم نواز کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے اور قوم سے دعاؤں کی اپیل ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کمزور فیصلے پر وزارت عظمیٰ اور پارٹی سے ہٹایا گیا جسے عمران خان خود بھی تسلیم کرتا ہے کہ نااہلی کا فیصلہ درست نہیں ہے،میں یہاں پر بیٹھا ہوتا ہوں اور عدالت کے باہر آوازیں لگائی جارہی ہوتی ہیں،آج کا پانامہ کا فیصلہ جسٹس منیر کے فیصلے سے بھی بدتر ہے،جس میں مجھے نااہل کردیاگیا۔