مردم شماری کے حوالے سے نمونہ بندی کا سروے ہونا لازمی ہے، اس کے بغیر مردم شماری کی تصدیق ممکن نہیں،فردوس شمیم نقوی

بدھ اپریل 18:35

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ طے یہ ہوا تھاکہ حکومت وقت نمونہ بندی کے ذریعے یہ جائزہ لے گی کہ مردم شماری میں لوگوں کو صحیح طرح گناگیا ہے یا نہیں۔ آج بڑے افسوس کی بات ہے کہ اتنے دن گزر چکے ہیں وہ سیمپل سروے نہیں ہوا اور پورا کراچی اس بات پر پریشان ہے کہ کراچی کی آبادی اتنی کم کیسے ہوگئی۔

یہ باتیں انہوں نے پارٹی سیکرٹریٹ ’’انصاف ہائوس‘‘ کراچی میں پی ٹی آئی کراچی کے عہدیداران و کارکنان سے بات چیت کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے بہت سے طریقے حکومت وقت کے پاس موجود ہیں۔ تیل کی کھپت کا جائزہ لیا جائے، اگر جتنا پٹرول لاہور میں استعمال ہوتا ہے، اس سے ڈیڑھ گنا کراچی میں ہوتا ہے تو شاید کراچی کی آبادی بھی ڈیڑھ گنا ہوگی۔

(جاری ہے)

گندم کتنی پستی ہے اور کتنی بکتی ہے، اس سے بھی پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح گوشت کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے، تخمینہ لگانے کا کوئی ایک طریقہ نہیں ، بلکہ بے شمار طریقے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مردم شماری کے حوالے سے نمونہ بندی کا سروے ہونا لازمی ہے۔ مثال کے طور پر حسن اسکوائر کی ایک بلڈنگ لے لیجئے۔ حسن اسکوائر کی آبادی کو چیک کرنا تو آسان کام ہے لیکن اتنا بھی حکومت وقت نے نہیں کیا کہ وہ علاقے جہاں گنجان آبادی زیادہ ہے، ان کے حوالے سے نمونہ بندی کو چیک کر لیں۔

کوئی کچی آبادی کرلیں یا ڈیفنس کا علاقہ، اس سے پتہ چل جائے گا کہ مردم شماری جو ہوئی ہے اس میں مکمل لوگ آسکے ہیں یا نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کے سروے میں زیادہ ڈنڈی جو ماری گئی ہے وہ ان علاقوں میں ماری گئی ہے جہاں کچی آبادیاں زیادہ ہیں۔ جہاں جہاں کچی آبادیاں ہیں، انہیں صحیح طریقے سے مردم شماری میں نہیں لایا گیا۔ اس میں دو باتیں شامل ہیں۔

کچھ لوگ کراچی میں رہتے ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ کراچی کے مستقل رہائشی ہیں۔ یہ دونوں مختلف اعداد ہوسکتے ہیں۔ اصل مردم شماری ان کی ہوگی جو کراچی میں رہتے ہیں۔ اور جو لوگ کراچی میں رہتے ہیں دراصل وہ کراچی کے ہی وسائل استعمال کرتے ہیں۔ تو ہماری خواہش یہ ہے کہ انہیں کراچی کی آبادی میں لازمی شمار کیا جائے۔ میری آپ سب سے اپیل ہے کہ جب بھی مردم شماری ہو، آپ اپنے آپ کو کراچی والا ہی ظاہر کریں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو کراچی کے وسائل کم ہوجائیں گے اور آبادی کے اعتبار سے بہت مسائل پیدا ہوں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے نزدیک کراچی کی آبادی دو کروڑ سے اوپر ہے۔ اسے پوری طرح گنا نہیں گیا۔ مصطفی کمال سے ہمارا یہ کہنا ہے کہ آپ نے جس طرح سے بات کی ہے، اس میں ایک طرح سے شرانگیزی کا پہلو نمایاں ہے۔ ملک میں اس وقت بڑی کوششیں ہو رہی ہیں کہ آنے والے الیکشن میں تاخیر ہوجائے۔ جتنی سیاسی جماعتیں الیکشن کو آگے بڑھانے کے لیے اس طرح کی تدابیر دیتی ہیں کہ جن سے الیکشن میں تاخیر ہو، پاکستان تحریک انصاف ان لوگوں کی مذمت کرتی ہے۔ الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں۔ مردم شماری کا معاملہ دوبارہ بھی اُٹھایا جاسکتا ہے اور مردم شماری دوبارہ بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن قوم کوئی غیر جمہوری حکومت برداشت نہیں کرے گی اور نہ ہی قوم یہ برداشت کرے گی کہ الیکشن میں کوئی تاخیر ہو۔