محکمہ صحت عامہ کے زیراہتمام عوام الناس کو ملیریا/ ڈینگی سے بچائو کے لیے واک کا انعقاد

بدھ اپریل 18:58

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) محکمہ صحت عامہ کے زیراہتمام عوام الناس کو ملیریا/ ڈینگی سے بچائو کے لیے واک کا انعقاد-" واک میں صحت عامہ کا سٹاف ، سول سوسائٹی ، ضلعی انتظامیہ، کی بھر پور شرکت " شرکاء واک نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے۔ جن پر ملیریااور ڈینگی سے بچائو کی حفاظتی تدابیر آویزاں تھیں۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت عامہ کے زیر اہتمام ملیریا کے عالمی دن کے موقع پر عوام الناس کو ملیریا، ڈینگی فیور سے بچائو ،شعور اجاگرکرنے کے سلسلہ میں ڈاکٹر محمد صابر خان عباسی ڈائریکٹر صحت عامہ (متعدی امراض)، ڈاکٹر ارم گیلانی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی قیادت میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس مظفرآباد سے عزیز چوک تک واک کا انعقاد کیا گیا۔

واک میں محکمہ صحت عامہ کے جریدہ و غیر جریدہ سٹاف ، سول سوسائٹی ، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ہر مکتبہ فکر کے افراد نے بھر پور شرکت کی ۔

(جاری ہے)

شرکاء واک نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے۔ جن پر ملیریا ، ڈینگی فیور سے بچائو کی حفاظتی تدابیرآویزاں تھیں۔ شرکاء واک سے ڈاکٹر صابر عباسی ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز (متعدی امراض) ،،ڈاکٹر ارم گیلانی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرنے خطاب کرتے ہوئے کہاملیریا100 % قابل علاج مرض ہے۔

بروقت تشخیص اور علاج سے مریض بالکل صحت یاب ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 243 ملین افراد ملیریا جیسی موذی مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں 1.5 ملین افراد ملیریا سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس مرض پرحفاظتی تدابیر اختیار کر لینے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ ماضی میں جنگوں سے زیادہ اس مرض سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ شرح اموات کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین میں زیادہ ہے۔

ڈاکٹر صابر عباسی نے مزید کہا ملیریا متاثرہ ممالک میں پیدا ہونے والے بچے اکثر کم وزن کے علاوہ قوت مدافعت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ جن علاقوں میں ملیریا کا مرض وبائی صورت حال اختیار کر لیتا ہے وہاں کے تعلیمی اداروں میں بچوں کی حاضری کم ہونے کے علاوہ سیاح ایسے علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ جس سے ملک کی معیشت بری طرح تباہ ہو جاتی ہے۔

حالیہ سیزن کے دوران شہری اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھر ا رکھیں۔ گھروں کے ارد گرد اور گھروں کے اندر کہیں بھی پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے۔ گھروں کی چھتوں پرپڑا ناکارہ سامان (ٹائر وغیرہ ) تلف کر دیے جائیں۔اپنے آپ کو مچھر کے کاٹنے سے بچایا جائے۔گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں پر جالی لگوائی جائے۔ محکمہ صحت عامہ نے GR سروے کے علاوہ ایڈیز لارول سرویلینس مہم شروع کر رکھی ہے۔

اس مقصد کے لیے ڈینگی کنٹرول سکواڈ Door to door سروے مہم پر مامور ہے۔ انہوں نے مزید کہا حالیہ سیزن کے دوران کسی بھی فرد کو سردی لگنے سے تیز بخار ، بھوک کا نہ لگنا، الٹی آنا ،بہت زیادہ پیاس لگنا، کپکپی طاری ہونا،بخاروقفے سے آناملیریا کی علامات ہیں۔ آزاد کشمیر بھر میں محکمہ صحت عامہ ملیریا کے مرض کی تشخیص اورعلاج کے لیے عوام الناس کو فری میں سروس بہم پہنچارہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے معاشرے کا ہر فرد محکمہ صحت عامہ کی جانب سے ہیلتھ ایجوکیشن مہم میں شامل ہو کر کردار ادا کرے۔ تقریب میں محمد ریاض قریشی ٹیکنالوجسٹ،راجہ بدر منیر چیف ٹیکنیشن ، سید لیاقت حسین نقوی ، عبدالرشید مغل، سید مبارک شاہ، راجہ محمد فاروق ، راجہ طاہر رزاق، سید نثار حسین ہمدانی،راجہ سجیل خان ،نیشنل پروگرام کی سیدہ صفورہ کاظمی ، نگہت خاکسار ، سیدہ سلمہ گیلانی، سید آزاد حسین نقوی ، کالاخان عباسی ، راجہ ثناء اللہ خان ، تصدق حسین سلہریا، فرید اعوان کے علاوہ دیگر نے بھی سیمینارسے خطاب کیا۔