شراب پر پابندی کے مطالبے پر مبنی سمیت 3قرار دادیں پنجاب اسمبلی میں جمع

جمعرات اپریل 15:56

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) شراب پر پابندی کے مطالبے ،تعلیمی اداروں کے باہر غیر معیاری قلفیوں ،برف کے گولوں کی فروخت اور زمینداروں کو فی ایکڑ پیداوار کے حساب سے باردانہ نہ دینے کے خلاف 3قرار دادیں اور ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی گئی۔۔جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر وسیم اختر کی طرف سے جمع کروائی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ حکومت شراب کی تیاری ، درآمد اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے، وزیراعظم اور گورنر ہائوس میں شراب کی ڈیوٹی ختم کرنا افسوسناک ہے۔

اللہ اور اس کے رسول ؐ کے حکم کی خلاف ورزی کا حکم واپس لیا جائے۔۔تحریک انصاف کے رکن اسمبلی احمد خان بھچر کی جانب سے جمع کرائی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ گرمی بڑھتے ہی غیر معیاری مشروبات،قلفیوں اور برف کے گولوں کی فروخت جاری ہے ،تعلیمی اداروں کے باہر پابندی کے باوجود گھنائونا دھندہ عروج پر ہے جس سے بچے بچیاں اور شہری چھاتی گلے سمیت دیگر بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں،اس صورتحال پر زون انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کے اہلکار ایکشن کرنے سے گریزاں ہے ،فوڈ اتھارٹی پابندی پر عملدرآمد کرانے کے لیے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے۔

(جاری ہے)

قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کے باہر غیر معیاری قلفیوں اور برف کے گولوں کی فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔جبکہ احمد خان بھچر کی جانب سے جمع کرائی گئی دوسری قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت زمینداروں کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہے ،حکومت نے زمیندار کو فی ایکڑ 16 من کے حساب سے باردانہ دینے کے احکامات جاری کیے ہیں جو کہ زمینداروں کے ساتھ سراسر زیادتی اور ظلم کے مترادف ہے حالانکہ فی ایکڑ پیداوار 35 سے 40 من ہوتی ہے۔

باردانہ کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے سے زمیندار اضافی گندم آڑھتیوں کو بیچنے پر مجبور ہوتے ہیں اور حکومت کی جانب سے جو تھوڑا سا ریلیف ملتا ہے اس کی کسر آڑھتی نکال لیتے ہیں جس سے زمینداروں کی مشکلیں کم ہونے کی بجائے زیادہ ہوجاتی ہیں۔حکومت زمینداروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔۔قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ زمینداروں کو فی ایکڑ پیداوار کے حساب سے باردانہ فراہم کرے۔

علاوہ ازیں تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجی اخبار کی خبر کے مطابق شریف خاندان کی سکیورٹی، نواز شریف جی ٹی روڈ مشن اور دیگر اخراجات پر 9 سال 8 ماہ کے دوران 10 ارب 8 کروڑ 41 ہزار 960 روپے خرچ ہونیکا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے چار روزہ مشن جی ٹی روڈ پرتقریباً ایک ارب 45 کروڑ 56 ہزار روپے خرچ ہوئے، پاناما جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے اور احتساب عدالت میں پیشی کیلئے پہنچنے والے شریف خاندان کی شخصیات کے پروٹوکول پر سرکاری خزانے سے 2 کروڑ 42 لاکھ 92 ہزار 960 روپے سے زائد خرچ ہوئے۔

جبکہ پاکستان تحریک انصاف وسطی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات اور رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر مراد راس نے ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجی اخبار کی خبر کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں غیر قانونی بس سٹینڈز کی بھرمار، مانیٹرنگ نہ ہونے کے باعث سیکیورٹی رسک بن گئے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی طاقتور مافیا کے سامنے بے بس ہو گئی۔ بااثر سیاسی شخصیات کی پشت پناہی کے باعث ٹائون انتظامیہ اور ٹریفک پولیس غیر قانونی بس سٹینڈز کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔