ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر آصف حسین کی زیر صدارت میں منعقدہ تعمیرنو پروگرام کی سٹیٹ سٹیرنگ کمیٹی کااجلاس

حکومت پاکستان کے مالی تعاون سے 2ارب 2کروڑ روپے کے نظرثانی شدہ منصوبہ جات کی منظوری دیدی گئی

جمعہ اپریل 19:54

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر سید آصف حسین کی صدارت میں منعقدہ تعمیرنو پروگرام کی سٹیٹ سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں حکومت پاکستان کے مالی تعاون سے 02ارب 2کروڑ روپے کے نظرثانی شدہ منصوبہ جات کی منظوری دے دی گئی ، سیزفائرلائن پرواقع تعلیمی اداروں کی تعمیر کیلئے ایرا سے خصوصی نرمی حاصل کرنے کی ہدایت کی ، خواتین میں شرح خواندگی کے اضافہ کیلئے طالبات کے تعلیمی اداروں کی جلد تکمیل کی جائے ۔

زلزلہ متاثرہ علاقوں کے تعلیم وصحت کے 76 منصوبہ جات،ماحولیات وجنگلات کے 51 کے منصوبہ جات منظوری کے لئے پیش کئے گئے ،ضلع راولاکوٹ کے تین تعلیمی اداروں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکو ل کھائی گلہ ،گورنمنٹ بوائز ہائیرسیکنڈری سکول علی سوجل ،اورگورنمنٹ گرلز ہائی سکول سنگولہ کو جون سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت کی ،اس موقع پر سیکرٹری سیرا سردارمحمدفاروق تبسم ،سیکرٹری جنگلات سید ظہور الحسن گیلانی ،سیکرٹری ورکس سرداراسحاق ،سپیشل سیکرٹری صحت ظفر محمود ،ایڈیشنل سیکرٹری فنانس غلام مرتضیٰ مغل ، محمداقبال آصف ڈائریکٹر پراجیکٹ ایولیشن سیل ایرا،ڈپٹی کمشنر ضلع مظفرآباد مسعود الرحمان ،ڈپٹی کمشنر راولاکوٹ راجہ طاہر ممتاز ،ڈپٹی کمشنر ضلع باغ سرداروحید خان ،ڈائریکٹرپلاننگ سیر اعابد غنی میر ، ڈائریکٹر کوآرڈینیشن اکرام الحق ،پروگرام منیجر ڈی آر یو راولاکوٹ سردارطاہر محمود ،پرنسپل کشمیر فاریسٹ سکول خواجہ عبدالحمید ،ڈپٹی ڈائریکٹر زکامران وانی، سیدانیب گیلانی،ایکسئین عامر نذیر چوہدری،ایم اینڈای آفیسر مختار قریشی سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات آزادکشمیرڈاکٹر سید آصف حسین نے کہا کہ تعمیر نوپروگرام کے تحت سیز فائرلائن پر واقع تعلیمی اداروں کے طلباء کو چھت فراہمی کیلئے ایراء کی جانب سے پچاس فیصد سے زائد تعمیراتی کام کی پابندی سے استثناء حاصل کرتے ہوئے جن علاقوں میں تاحال تعلیمی اداروں کی تعمیرکاکام شروع نہیں کیا جاسکا اُسے فوری طور پر شروع کرانے کے علاوہ مختلف مراحل پر زیرالتواء کاموں کو مکمل کرنے کے اقدامات کیے جائیں،ڈیزائن کئے گئے منصوبوں کو دستیاب مالیاتی وسائل ،عوامی ضروریات اورمنصوبوںپر کئے گئے کام کو مدنظررکھتے ہوئے ترجیحات مرتب کی جائیں ،جو منصوبے ابھی تک متعلقہ محکموںکے سپرد نہیں ہوئے انہیں فوری طورپر ان کے سپرد کیا جائے تاکہ اگر کسی منصوبے کی تکمیل میں کوئی فنی خرابی رہ گئی ہے تو اُسے متعلقہ تعمیراتی کمپنی سے ٹھیک کر وایا جاسکے ۔

تعلیم ،اور صحت سمیت دیگر منصوبوںکو زیادہ سے زیادہ عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے،