بلوچستان میں نفرت کی سیاست کی بنیاد پر اقتدار حاصل کرنے والوں نے ذاتی مفادات حاصل کئے ، سردار اختر مینگل

پانچ سال تک حکمرانوں کے اہم اتحادی پشتونستان کی قرارداد تک ان ایوانوں میں نہیں لاپائے،قائد بلوچستان نیشنل پارٹی

جمعہ اپریل 23:49

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) بلوچستان میں نفرت کی سیاست کی بنیاد پر اقتدار حاصل کرنے والوں نے ذاتی مفادات حاصل کئے پانچ سال تک حکمرانوں کے اہم اتحادی پشتونستان کی قرارداد تک ان ایوانوں میں نہیں لاپائے انتخابات قریب آتے ہی ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے عوام کے درمیان نفرتیں پھیلانے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔ہمارے پاس غلوں کے گودام نہیں جس سے ہم صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے دعوے کریں تاہم دعویٰ کرتے ہیں کہ عوام کو وہ عزت دیں گے جس کے وہ حقدار ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد بلوچستان سردار اختر مینگل ، سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ ، مرکزی کمیٹی کے ممبر نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی ، بی ایس او کے چیئرمین نذیر بلوچ ، احمد نواز بلوچ نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ،،قومی وطن پارٹی سے مستعفی ہونے والے ملک مصطفی خان کاکڑ ،علائو الدین کاکڑ ، حاجی نصر اللہ کاکڑ،سردار عزیز خلجی،حاجی عبداللہ خلجی،سردار لونگ خان،،عمران خان کاکڑ،حاجی عبید اللہ خان کاکڑ،اختر محمد بارکزئی ، محمد خان سوری ، ملک منصور خان کاکڑ،حاجی نصیب اللہ ،،حبیب اللہ خلجی کی قیادت میں سینکڑوں افراد کی بلوچستان نیشنل پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی،مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ،ملک نصیر شاہوانی ، موسیٰ بلوچ،،ڈاکٹر غفور بلوچ،اختر حسین لانگو،عبدالرؤف مینگل،ہمایوں عزیز کرد،عمران بنگلزئی،قاری اختر شاہ کھرل بھی موجود تھے مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹا جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

دنیا کاامیر ترین خطہ ہونے کے باوجود ہمارے بچوں کے پاؤں میں پلاسٹک کی چپل تک نہیں نہ ہی ہماری خواتین کے سروں پر اوڑھنے کیلئے چادرہے ۔۔دنیا کی سب سے بڑی تانبے او رسونے کی کانوں کے مالک ہوتے ہوئے بھی آج صوبے کے لوگ دو وقت کی روٹی کو محتاج ہیں۔۔بلوچستان میں کوئی ایسا ایک گائوں نہیں جہاں سے لوگ لاپتہ نہیں ہوئے ایسا علاقہ نہیں جہاںمسخ لاشیں نہیں ملی ہوںمقررین نے کہا کہ آج پشین سے کوئٹہ آتے ہوئے ہماری ماؤں بہنوں کے سر سے دوپٹے اتار کر انکی جامہ تلاشی لی جاتی ہے ۔

بزرگوں کی پگڑیاں اتار ی جارہی ہیںجو آج سے چالیس سال پہلے نہیں ہوا کرتاتھا پشتونوں کا حق ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں سے اقتدار میں رہنے والوں سے پوچھیں کہ ان پانچ سالوں کے میںانہوں نے پشتونوں سمیت دیگراقوام کے لیے کیا کیا ۔کیا انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ایسی قانونی پالیسی اپنائی جس سے پشتونوں کی پگڑیاں محفوظ ہوں انکی عزت ننگ و ناموس محفوظ رہے ۔

کیا انہوںنے اپنے دور اقتدار میں ایسا کوئی منصوبہ بنایا جس سے لوگوں کو باور کرایا جاسکے کہ وہ اپنے گھروں میں محفوظ ہیںتویقینا ان کا جواب نہیں میں ہوگامقررین نے کہا کہ انکے دور اقتدار میں آج نہ بلوچ محفوظ ہے ، نہ پشتون ، نہ ہزارہ ، نہ مسیحی نہ ہی نمازی اور نہ شیعہ محفوظ ہے لیکن انہوں نے صرف اپنے خاندان اور قلعوں کو محفوظ کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیںمقررین کا کہنا تھاکہ ماضی میں بھی اسی جماعت نے بلوچ اور پشتون کو تقسیم کرنے کے لیے صوبے میں نفرت کی دیوار کھڑی کرکے نفرت کی بنیاد پر قائم اپنی دکان کو دوام بخشنے اور چمکانے کیلئے اس کی دیواروں کو بلوچوں اور پشتونوں کے خون سے رنگا اگر ان کی سیاست سے نفرت کا خاتمہ کیا جائے توان کی سیاست ہمیشہ کیلئے دفن ہوجائے۔

نفرت کے بل بوتے پر ایوانوں تک جا پہنچنے والوںنے اپنے مفادات کی خاطر یہاں آباد اقوام کی بلی چڑھائی ۔ اقتدار کی خاطر لوگوںکو نفرت کی آگ میں دھکیل دیتے ہیں ۔ان کاکہنا تھاکہ جنوبی پشتونستان کا نعرہ لگانے والوں نے اپنے لیے اچھی سے اچھی وزارتیں گورنر شپ، وزیراعظم کے مشیراور کابینہ میں بااختیار بننے کے باجود ان ایوانوں میں پشتونستان کی قرارداد تک نہیں لاسکے مقررین نے کہا کہ ان کو میرا مشورہ ہے کہ آپ کی یہ دکان اب پرانی ہوگئی اب کوئی اور دکان دیکھ لو صوبے میں مزیدنفرت کی سیاست چلنے والی نہیں ۔

صوبے میں آباداقوام کے حقوق کا حصول تب ممکن ہے جب ہم یکجا ہونگے ۔ ان کا کہنا تھاکہ وزیرستان سے اٹھنے والے ایک منظورپشتین نے بااختیار لوگوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیاجب وزیرستان کے لوگ اٹھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ صوبے کی تمام اقوام کو اکٹھا ہوکر صوبے کے حقوق کی جدوجہد کرنا ہوگی یہ بیڑا بلوچ، پشتون اور یہاں آباد دیگرلوگ اکیلے نہیں اٹھا سکتے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس گندم کا گودام نہیں کہ میں شامل ہونے والوں کو روزگار کی فراہمی کا دلاسہ دے سکوںمگر انہیں ضرور یقین دلاتا ہوں کہ بی این پی کے قائدین انہیں کھبی مایوس نہیں کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ بی این پی کسی ایک قبیلے ،علاقے ، فرد یاکسی ذات کی جماعت نہیں ؂۔ بلوچستان میں بسنے والا ہر شخص چاہے وہ بلوچ ہو، پشتون ،پنجابی ، ہزارہ ہو یااس کا تعلق کسی بھی مذہب ، رنگ ، نسل سے ہو یہ پارٹی ان تمام لوگوں کی جماعت ہے مقررین نے کہا کہ تعصب ایک لا علاج مرض ہے جس کا علاج نا ممکن ہے ،،بلوچستان کے سود زیاں میں شریک افراد کو اپنی آئندہ نسل کو محفوظ بنانے کیلئے متحد ہونا ہوگا جس دن بلوچ اورپشتون متحد اور یکجاہوئے اس دن صوبے سے ظلم و نا انصافی ، مسخ شدہ لاشیں ملنا بند ہوجائیں گی پشتونوںپر جب بھی برا وقت آیا بلوچ انکے شانہ بشانہ کھڑے رہے ان کا کہنا تھا کہ 16 ویں صدی میں اس خطے پر جب ایک جابر حاکم گورگین کو یہاں کے عوام پر جبر اور ظلم کرنے کیلئے مسلط کیا گیا تو اس وقت پشتون ہوتک قبیلہ کی ایک سرکردہ شخصیت میر وائس نے لوئے جرگہ طلب کیا جس میں بلوچ قبائل کے عمائدین نے بھی شرکت کی اور جرگہ میں فیصلہ ہوا کہ گورگین کوشکست دینے کیلئے حکمت عملی مرتب کی گئی اور جب گورگین اپنے لشکر کے ساتھ بلوچستان کے علاقہ ریگستان پر حملہ آور ہوا تو یہا ں آباد بلوچ پشتون اقوام نے اس کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اس کے لشکر کو شکست دی اور جابر گورگین کو قتل کیا ۔

ان کا کہنا تھاکہ جب احمد شاہ ابدالی نے دہلی کا رخ کیا تو ہمارے اکابرین نے دہلی فتح کرنے تک ان کا ساتھ دیا مقررین کا کہنا تھا کہ جب بھی اس خطے میںبلوچ اور پشتون میں اتفاق ہوا ہے توا س خطے نے ظلم جبر ، نا انصافی اور غیروں کے ظلم سے نجات پائی ہے ان کا کہنا تھا کہ آج ہمارا خطہ جس بے چارگی ، بے روزگاری ، ناخواندگی ، ظلم ، نا انصافی سے دو چار ہے اس کی واحد وجہ ہمارا منتشر ہونا ہے ان کا کہنا تھاکہ جب ہم متحد ہوکر آگے بڑھیں گے تو مجھے یقین ہے کہ اس صوبے سے ظلم نا انصافی ، مسخ شدہ لاشیں ملنا بند ہوجائیں گی ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے پائیں گے جس میں نفرت ، فرقہ واریت تعصب نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پارٹی میںشامل ہونے والے پشتون قبائل کے لوگ اس پارٹی کے وارث ہیں اور امید ہے کہ وہ بلوچ پشتون اتحاد کو فروغ دیکر صوبے سے نفرت کی سیاست کا خاتمہ کرینگے ۔