میرپورخاص میں فیڈر ٹیچر کی جانب سے این سی ایچ ڈی کے سامنے مطالبات کی بحالی کیلئے بچوں سمیت احتجاجی مظاہرہ و دھرنا

پیر اپریل 23:45

میرپور ماتھیلو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) فیڈر ٹیچر کی جانب سے این سی ایچ ڈی کے سامنے مطالبات کی بحالی کے لیے بچوں سمیت احتجاجی مظاہرہ و دھرنا ۔ این سی ایچ ڈی کی جانب سے مقرر کیے جانے والے اساتذہ کو پانچ ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں ۔این سی ایچ ڈی نے 2013سے تعلیمی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو مسقتل کرنے کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے ۔

پندرہ ہزار کے بجائے آٹھ ہزار ماہوار تنخواہ ادا کی جاتی ہے ۔ سندھ کے تین ہزاراساتذہ سمیت تعلیم حاصل کرنے والیپونے دو لاکھ بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ۔ مطالبات تسلیم کیے جائیں، اساتذہ کا چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق فیڈر ٹیچر ایسوسی ایشن این سی ایچ ڈی گھوٹکی کی جانب سے مطالبات کی بحالی کے حوالے سے ضلعی رہنما عبدالمجید عباسی ، جنرل سیکریٹری طالب حسین لونڈ ،عبدالمجید لکھن اور صاحب پتافی کی جانب سے میرپورماتھیلو میں این سی ایچ ڈی آفیس کے سامنے سینکڑوں اساتذہ کی جانب سے مطالبات کی بحالی کے سلسلے میں بچوں سمیت احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر اساتذہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں تین ہزا اساتذہ جبکہ ضلع گھوٹکی میں 327اساتذہ 2013سے تعلیمی سر گرمیوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جس کی بدولت سندھ بھر میں کم و بیش پونے دو لاکھ بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں تاہم ایک منظم سازش کے تحت سیکریٹری تعلیم کی جانب سے ایک لیٹر جاری کروایا گیا جس میں اساتذہ کو سرکاری اسکولوں سے نکال کر فیڈر اسکول کھولنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس سے سندھ بھر میں پونے دو لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ تھا ۔

سیکریٹری تعلیم کے ایسے حکم نامے کے بعد اساتذہ کی جانب سے سندھ بھر میں سخت احتجاج کیا گیا جس کے بعد سیکریٹری تعلیم نے مذکورہ آرڈر ختم کرتے ہوئے مذکورہ اساتذہ کو سرکاری اسکولوں میں کام جاری رکھنے کے حوالے سے لیٹر جاری کیا گیا تاہم این سی ایچ ڈی انتظامیہ نے سیکریٹری تعلیم کے آرڈر کو ہوا میں اڑاتے ہوئے آرڈر پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ۔

دوسری جانب عدالت عالیہ نے بھی 9 مئی 2017کو اساتذہ کے حق میں فیصلہ دیا اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کی جانب سے بھی اساتذہ کے حق میں ٹائم ویجز کی منظوری دے چکی ہے ۔ ا ساتذہ کا مزید کہنا تھا کہ گورنمنٹ این سی ایچ ڈی کو ایس ڈی پی کی مد میں کروڑوں روپے ادا کر رہی ہے جو کہ این سی ایچ ڈی انتظامیہ ہضم کر رہی ہے اور اساتذہ کو ان کی محنت اور لیبر قوانین کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جارہی جبکہ گذشتہ چھ ماہ سے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی جس کے باعث ان کے مالی حالات انتہائی خراب ہیں ۔

این سی ایچ ڈی اساتذہ کو وہ اسکول بند کرنے کے لیے دبائو ڈال رہی ہے جس میں وہ 2013سے خدمات انجام دے رہے ہیں جس کے باعث سندھ کے تین ہزار اساتذہ سمیت پونے دو لاکھ بچوں کا مستقبل بھی خطرے میں دکھائی دے رہا ہے ۔اساتذہ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے حقوق کے حصول کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان نوٹس لیں تاکہ اساتذہ سمیت تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے مستقبل کو بچایا جا سکے ۔