چکوٹھی کے نواحی گائوں بیلہ شاٹھ بنیادی سہولیات سے محروم‘ بچے چھ کلومیٹر سفر طے کرکے سکول جانے پر مجبور

منگل مئی 18:20

چناری/چکوٹھی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) آزاد کشمیر لائن آف کنٹرول کا انوکھا علاقہ ’’بیلہ شاٹھ‘‘ جہاںبارش میں بچوں کو سکول نہیں بھیجا جاتا۔30سے زائد خاندان شدید بے بسی کے عالم میں،بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث’’بیلہ شاٹھ‘‘ سے ہجرت کر کے مظفرآباد راولپنڈی،اسلام آباد اور ٹیکسلا چلے گئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے 60کلو میٹر کے فاصلے پر واقع چکوٹھی کے نواحی گائوں ’’بیلہ شاٹھ‘‘ میں سرکاری سکول نہ ہونے کے باعث روزانہ چھوٹے بچوں کو 6کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے سرکاری سکول میں تدریس کیلئے جانا پڑتا ہے،ایل او سی پر واقع دشوار گزار اور پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث روزانہ 6کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔

(جاری ہے)

دوران بارش یا شدید برف باری کے دوران والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے کیونکہ خراب موسم کے دوران دشوار گزار اور تنگ راسے پر سفر کرنا اِن معصوم بچوں کے لیے اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا کہ تصور کیا جا رہا ہے۔چونکہ علاقہ ’’بیلہ شاٹھ‘ بنیادی ضروریات زندگی (پینے کا صاف پانی،،پختہ سڑک،،راستہ،ہسپتال وغیرہ وغیرہ) جیسی سہولیات سے محروم ہے۔

چکوٹھی لائن آف کنڑول پر واقع علاقہ ’’بیلہ شاٹھ ‘‘لوہر پاہل سے اس وقت تک 20سے زائد خاندان مظفرآباد،راولپنڈی،اسلام آباد اور ٹیکسلا ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تاکہ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دے سکیں اور ان شہروں میں موجود بنیادی سہولیات سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت آزاد کشمیر اپنے انتخابی منشور پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس علاقہ میں تعلیم کی سہولیات بہم پہنچانے کی غرض سے سکول کا قیام عمل میں لائے تاکہ جہاں حکومت کی نیک نامی میں اضافہ ہو گا وہاں پر لائن آف کنٹرول کی عوام کے بچوں کو تعلیم جیسی سہولیات مہیا ہوں گی۔