جو وعدہ کیا تھا وہ پایہ تکمیل کو پہنچنے کو ہے، وزیراعلیٰ سندھ

سال دسمبر تک تقریبا 1200 میگاواٹ کے قریب ہوجائے گی، جھمپیر ونڈ پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

بدھ مئی 23:32

,کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے جو وعدہ کیاتھا کہ وہ اپنے دور کے آخر تک رینیوایبل انرجی سے 1000 میگاواٹ بجلی پیدا کریں گے اور یہ وعدہ پایہ تکمیل کو پہنچنے کو ہے کیوں کہ بجلی کی پیداوار930 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے اور اس سال دسمبر تک یہ تقریبا 1200 میگاواٹ کے قریب ہوجائے گی۔انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں 50میگاواٹ جھمپیر ونڈ پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بجلی کے بحران کی اہم وجوہات میں غیر موثر اور ناقابلِ عمل پاور پالیسی بالخصوص مقامی وسائل سے بھرپور طریقے سے استفادہ نہ کرنا ہے۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ انہوں نے متبادل انرجی پر بہت اچھے طریقے سے کام کیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب جھمپیر میں ونڈ انرجی کے تین منصوبوں کی تنصیب کی جارہی تھی تو ونڈ ٹربائنس کی اونچائی کا مسئلہ اچانک سامنے آیا جسے انہوں نے حل کردیاہے۔

اس وقت 2 منصوبے آپریشنل ہیں اور یہ ایک شاندار کامیابی ہے اور اس سے ملک میں زیادہ بجلی دستیاب ہوگی اور انہوں نے کہا کہ ہمیں بلاشبہ اس طرح کے مزید پاور پلانٹس کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاور پالیسی دی تو اس پر بہت زیادہ تنقید کی گئی خاص طورپر ان کی حکومت کی برطرفی کے بعد ۔انہوں نے کہا کہ وہ ان دنوں بحرین میں کام کررہے تھے اور ہم چند انجینئر دوست محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پاور پالیسی پربات کرتے تھے۔

بہت سے ناقدین کے مطابق یہ بہت مہنگی پاور پالیسی تھی مگر اس کا ٹیرف 6 یا 7 سینٹ فی کلو واٹ فی یونٹ تھا ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے ہیں کہ اگربجلی نہیں ہوگی تو ہمیں کتنا نقصان ہوگا۔ 95-1994 میں یہ اسٹیڈی کی گئی تھی جس میں بجلی نہ ہونے کی کیا کاسٹ ہوگی۔ آپ تصور کریں اگرشہید محترمہ بے نظیر بھٹو پاور پالیسی نہیں دیتیں توتقریبا 500 میگاواٹ پاور نیشن گرڈ میں شامل نہ ہوتی اور اس وقت وہی صورتحال ہے۔

انہوں نے پالیسی بنانے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس لاگت کا اندازہ لگائیں کہ اگر بجلی نہیں ہوگی تو ہمارے ملک کو کتنا زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا ہوگا اور ہم کتنی ہی دہائیاں پیچھے چلے جائیں گے کیونکہ اگر ہمارے پاس بجلی نہیں ہوتی ہے تو۔انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکوریٹی کی طرح ملک میں انرجی سیکوریٹی بھی ہونی چاہیے ۔ فوڈ سیکوریٹی کا مثال دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ جب 2008 میں پی پی پی کی حکومت قائم ہوئی تو ملک میں گندم کی قلت تھی۔

پی پی پی کی حکومت نے متعدد ترغیبات کا اعلان کیاجس کے نتیجے میں ہمیں گندم کی بمپر فصلیں حاصل ہوئیں اور اب ہم گندم برآمد کررہے ہیں اسی طرح انرجی سیکوریٹی حاصل کرنے کے لیے نجی شعبے کو ترغیبات دینا ہوں گی تاکہ وہ پاور جنریشن میں سرمایہ کاری کریں ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ انرجی کی آزادی حاصل کرنے کے لیے ہمیں مقامی طورپر حل تلاش کرنا ہوگا۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ میں یہ بات قبول کرتاہوں کہ بجلی کے بلوں کی وصولیاں صحیح نہیں ہیں گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے یہ تمام مسائل ہیں جنہیں ہم نے بہتر بنانا ہے مگر ہم ملک ، لوگوں اور صنعتوں کے لیے بجلی کو روک نہیں سکتے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ انہیں آج وزیرا علی سندھ بنے 21 ماہ دو دن ہوگئے ہیں اور میں نے 16 اگست 2016 کو وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کی تھی اور ہماری ملاقات میں میں نے ان سے انرجی سے متعلق بات کی تھی ، میں آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت کے دور کے آخر میں ہمارے پاس 1000 میگاواٹ بجلی ہوگی جوکہ سندھ میں پیدا ہوگی اور اس وقت اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم 937 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ انہوں نے وزیرا عظم پاکستان کو بتایا تھا کہ وہ اضافی 1000 میگاواٹ بجلی دیں گے اگر آپ (وزیر اعظم) انہیں گرڈ میں اضافی گنجائش دیں۔مجھے وزیر اعظم نے 30ستمبر 2016 تک چند منظوریاں دیں ، میں نے کہا کہ رینیوایبل وسائل سے بجلی پیدا کی جاسکے گی مگروزیر اعظم کی جانب سے میری درخواست کے باوجود تاخیر پہ تاخیر ہوتی گئی اور اگر وفاقی حکومت بروقت منظوری دے دیتی تو ہم اس سال جون تک ونڈ انرجی سے 2000 میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس سال کے آخر تک 1200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے جارہے ہیں ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ملک میں کوئی واضح انرجی کی پالیسی نہیں ہے۔۔تھر سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ لوگوں کی جانب سے سندھ حکومت پر تھر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر تنقید کی گئی۔ہم نے اس رقم(ایک بلین ڈالر)) سے ہائی ویز تعمیر کیے، میٹرو زقائم کیں ، ٹریٹڈ سیلن واٹر اور صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے اور برساتی نالے قائم کرنے سمیت دیگر سہولیات مہیا کیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ہم نے تھر میں سرمایہ کاری نہیں کی بلکہ ہم نے پورے سندھ کے مکمل انفراسٹرکچر کو ترقی دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انرجی سیکوریٹی کے لیے سرمایہ کاری ہے کیونکہ آئندہ 20 سالوں میں تھر سے 5 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تھر میں پہلا پلانٹ ٹریک پر ہے اور ہم نے اس کا کول مائننگ کا 75 فیصد کام مکمل کرلیاہے اور اس سال کے آخر تک ہم بجلی کی پیداوار شروع کردیں گے اور 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کردی جائے گی اور اس طرح ہم ہر سال ایک ہزار میگاواٹ بجلی کا تھر پارکر سے اضافہ کرتے جائیں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کم سے کم ٹیرف 9.5 سینٹ ہے تھر پاور کی لاگت دیگر انرجی کے ذرائع کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گرڈ میں 5فیصد رینیو ایبل انرجی رکھی ہے۔گرڈ میں کمی بیشی ہے اور یہ کوئی قابلِ بھروسہ لوڈ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ میں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور مجھے ایک چیز یاد ہے کہ ہمیں مسائل ہیں اور ان کے حل بھی ہیں اور کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں جس کا کوئی حل نہ ہو۔

مراد علی شاہ نے سوال کیا کہ ہم کیوں درآمدی ایل این جی پر بھروسہ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس انرجی کے بحران کا حل ہے اور سندھ ملک کو درپیش انرجی کے بحران کو حل کرسکتاہے اور ہمارے پاس کوئلہ،سولر،ونڈ اورچاول کے چھلکے سیبجلی پیدا کرنے کے وسائل موجود ہیں اور ہمارے پاس قابل عمل اور واضح پالیسیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جھمپیر کوریڈور سے 35ہزاور میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا مجھے یاد ہے جب ہم سندھ حکومت کی اسپانسر کے تحت نوری آباد پاور پلانٹ لگانے جارہے تھے تو وفاقی حکومت نے ہمارے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے اور انہوں نے کہا کہ 250 میگاواٹ کا پاور پروجیکٹ نصب نہیں ہوسکتا اور انہوں نے کتنے ہی دیگر مسائل پیدا کیے اور بالآخر میں سیدھا وزیر اعظم کے پاس گیا اور ان سے اس کی منظوری حاصل کی مگر اس کے باوجود ہمارے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور ان تمام کے باوجود ہم نے 100 میگاواٹ کا پاور پلانٹ نصب کیا اوروہ اب کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے ۔