آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ

جمعہ مئی 00:00

حیدرآباد۔ 3 مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے آزادی صحافت کے حق میں نعرے بازی کی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکرٹری جنرل جی ایم جمالی کی ہدایت پر حیدرآباد میں عالمی یوم آزادی صحافت منایا گیا۔

اس سلسلے میں حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے آزادی صحافت کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایچ یو جے کے صدر حمید الرحمن نے کہا کہ صحافت آج بھی حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہے اور ہماری آزادی صحافت کی جدوجہد بدستور جاری ہے‘ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں صحافیوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

گذشتہ سال دنیا بھر میں 81 سے زائد صحافی قتل کئے گئے‘ ہمارے ملک میں بھی صحافیوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں صحافی آج بھی خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ ایچ یو جے کے صدر کا کہنا تھا کہ صحافیوں کا معاشی استحصال کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ حکومت میڈیا ہائوسز کو کمزور کرنے کی سازشوں کا نوٹس لے کیونکہ میڈیا ہائوسز سے ہزاروں میڈیا ورکرز کا روزگار وابستہ ہے‘ مظاہرے میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان میں شہید ہونے والے صحافیوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے‘ حکومت وعدے کے مطابق شہید صحافیوں کے اہل خانہ کو مالی معاوضہ دے‘ مظاہرے میں حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری شیراز ڈاہری‘ ناصر شیخ‘ آفتاب میمن‘ اکرم شاہد‘ الطاف کوٹی‘ محمد حسین خان‘ ریاست ناغڑ‘ سردار خان‘ عامر علی‘ نعیم شاہ‘ ناصر حسن‘ قسیم قریشی‘ امتیاز کھوسو‘ اسلم کھتری‘ ہارون آرائیں‘ محسن خان‘ندیم خاور‘ انجم پرویز اور دیگر صحافیوں نے شرکت کی۔