آرمی چیف نے 11 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

دہشت گرد سنگین وارداتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے سزا پانے والوں میں محمد زیب ،ْ برہان الدین ، شہیر خان ، گل خان ، سلیم اور عزت خان شامل تمام مجرمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا ،ْ آئی ایس پی آر

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ مئی 12:01

آرمی چیف نے 11 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 11 دہشت گردوں کی سزائے موت توثیق کردی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گرد سنگین وارداتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سزا پانے والے مجرمان مالاکنڈ یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے اور معصوم شہریوں کو قتل کرنے کی وارداتوں میں بھی ملوث تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ سزا یافتہ مجرمان صوبہ خیبرپختونخوا میں رکن صوبائی اسمبلی عمران خان کے قتل میں بھی ملوث تھے۔۔آئی ایس پی آر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں پر مجموعی طور پر 60 شہریوں کو قتل،، 36 کو زخمی کرنے میں ملوث تھے اور اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں سمیت 24 سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل اور 142 معصوم افراد کو زخمی بھی کیا۔

(جاری ہے)

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے سزائے موت اور دیگر سزائیں سنائی جاچکی تھیں جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کو اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔سزائے موت پانے والوں میں محمد زیب ولد محمد نواب، برہان الدین ولد عمر دراز، شہیر خان ولد رحمان الدین، گل خان ولد وصلی خان، سلیم ولد عبدالمتین اور عزت خان شامل ہیں۔محمد زیب نے پاک فوج کے 5 اہلکاروں کو شہید اور 6 کو زخمی کرنے، رکن اسمبلی عمران خان مہمند کے قتل،، ملاکنڈ یونیورسٹی پر حملے سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو تباہ کیا ۔

دہشت گرد برہان الدین ولد عمر دراز، شہیر خان ولد رحمان الدین اورل گل خان ولد وصلی خان نے مردان کے علاقے زرگرانو کلی میں ایک نماز جنازہ پر حملہ کیا جس سے رکن صوبائی اسمبلی عمران خان مہمند سمیت 30 افراد شہید اور 100 کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے۔سلیم ولد عبدالمتین نے 3 شہریوں سمیت 4 سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا ،ْ انہوں نے 12 افراد کو زخمی بھی کیا، اس کے علاوہ اس نے سوات کے سرکاری ہائی اسکول کو بھی تباہ کیا۔عزت خان پر بے گناہ شہریوں کی ہلاکت سمیت مسلح افواج اور ملا کنڈ یونیورسٹی پر حملوں کا الزام تھا۔۔آئی ایس پی آر کے مطابق تمام مجرمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا۔