حکومت کو اس وقت پارلیمنٹ یاد آرہی ہے جب چڑیا ں چگ گئیں کھیت۔قائد حزب اختلاف

حکومت سے بار بار کہا کہ آئیں بیٹھیں،مسائل پر بات کریں لیکن حکومت نے پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دی‘ حکمران اقتدار کے اندھے گھوڑے پر سوار تھے ،آخر اندھے گھوڑے نے حکمرانوں کو کھائی میں گرا دیا۔خورشید شاہ کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 15:37

حکومت کو اس وقت پارلیمنٹ یاد آرہی ہے جب چڑیا ں چگ گئیں کھیت۔قائد حزب ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 مئی۔2018ء) قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بے نظیر بھٹو کے مقدمہ قتل میں مبینہ طور پر ایک کالعدم شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے پانچ ملزمان کی عدالت کے حکم پر ضمانت پر رہائی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابل افسوس اقدام قرار دیا ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ یہ کھلا قتل تھا اور ساری چیزیں سامنے آ گئی تھیں‘ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اتنی بڑی رہنما کی شہادت ہو اور وہ لوگ پکڑے بھی جائیں۔

ان کو مقدمہ میں نامزد بھی کیا جائے‘ ان کا اس قتل سے تعلق بھی جوڑا گیا اورپھر ان کو آپ چھوڑ دیں۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر کا قتل ایک ایسا واقعہ نہیں ہے کہ اس سے پہلو تہی کی جائے کہ شاید یہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں محب وطن پاکستانی رہنما جو قوم کے لیے جیتے ہیں اور اگر کوئی دہشت گرد ان کو قتل کردے ان کو چھوڑ دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا اس صورت حال میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ ملک کے وزیر داخلہ جیسی اہم شخصیت پر بھی کوئی حملہ کر دے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ بے نظیر کے قتل کے مقدمے کے ملزمان کی رہائی کی پارلیمان کو مذمت کرنی چاہیے۔ہم اپنے اپنے حصار میں بندھے ہوئے ہیں۔ اپنے اپنے مائنڈ سیٹ سے بندھے ہوئے ہیں۔ اپنے ایجنڈے میں بندھے ہوئے ہیں۔ ہم مل کر کوئی کام نہیں کرسکتے ہیں۔

اور ہم اکیلے اکیلے ہو کر مرتے جائیں گے اور کوئی ہم پر رونے والا نہیں ہوگا۔حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اب آپ کو پارلیمنٹ یاد آرہی ہے جب چڑیا ں چگ گئیں کھیت۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ آج سارے سیاست دان غیر محفوظ ہو چکے ہیں،حکومت سے بار بار کہا کہ آئیں بیٹھیں،مسائل پر بات کریں لیکن حکومت نے پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ حکمران اقتدار کے اندھے گھوڑے پر سوار تھے ،آخر اندھے گھوڑے نے حکمرانوں کو کھائی میں گرا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ شہید بے نظیر بھٹو کی سیاست پیپلز پارٹی تک محدود تھی ،وہ کسی ایک جماعت کی نہیں، عوام کی لیڈر تھیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے، ہم کہاں احتجاج کریں،سیاستدان ایک ایک کر کے مارے جائیں گے ، کوئی ہم پر رونے والا بھی نہیں ہو گا۔ہم اپنے اپنے ایجنڈوں میں پھنسے ہوئے ہیں،سیاسی نظام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے،جب ملک میں سیاسی جماعتیں نہ ہوں تو آمریت ہوتی ہے،سیاسی رہنما ساری عمر جہدو جہد کرتے ہیں،،قتل پرکوئی پوچھتا تک نہیں۔

واضح رہے کہ بے نظر بھٹو کے شوہر سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی جماعت پیپلز پارٹی نے ہائی کورٹ میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے جس میں ماتحت عدالت کی طرف سے بری کیے جانے والے پانچوں ملزمان کو سزائے موت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔۔لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کو بے نظیر قتل کیس کے پانچ ملزمان کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی اور ان کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے انہیں اس مقدمے کے حتمی فیصلے سے پہلے ہر سماعت پر اپنی حاضری کو یقنی بنانے کی ہدایت کی تھی جبکہ اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کے ایک عدالت نے گزشتہ سال ستمبر میں بے نظیر بھٹو قتل کے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ ملزمان کو بری کرتے ہوئے دو پولیس افسران کو 17، 17 سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

بری ہونے والے ملزمان میں رفاقت حسین، حسنین گل، عبدالرشید، اعتزاز شاہ اور شیر زمان شامل ہیں جنہیں عدالت کے فیصلے کے فوراً بعد پنجاب حکومت نے اندیشہ نقض امن کے تحت اڈیالہ جیل میں نظر بند کردیا تھا۔جبکہ پولیس افسران کو بعد ازاں ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔