2018ء کے الیکشن میں متحدہ مجلس عمل اور مذہب بیزار قوتوں کے درمیان زبردست ٹاکرا ہو گا ،مولانا سید گوہر شاہ

ہفتہ مئی 22:49

چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) رکن قومی اسمبلی اور جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنماء مولانا سید گوہر شاہ نے کہا ہے کہ 2018کے الیکشن میں متحدہ مجلس عمل اور مذہب بیزار قوتوں کے درمیان ایک زبردست ٹاکرا ہو گا، انشاء اللہ مغرب کے ایجنٹوں اور یہودی ایجنڈے پر کار فرماعناصر کو ہر محاذ پر شکست سے دو چار کرینگے۔ وہ جامعہ احسن المدارس میں مولانا جمیل احمد کے زیر صدارت منعقدہ دستاربندی جلسے سے خطاب کر رہے تھے ۔

اس موقع پر پیر حزب اللہ جان ،مفتی عبداللہ شاہ، مفتی یار محمد، جے یو آئی ضلع پشاور کے امیر مولانا خیر البشر ، جامعہ کے مہتمم ناظم مولانا سید کمال شاہ اور مولانا حمید اللہ نے بھی خطاب کیا ۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی میں علماء کا کر دار روز روشن کی طرح عیاں ہے ،جب بھی اسلام دشمن طاقتوں نے اسلامی اقدار کے خاتمے کی کو شش کی تو علماء نے ان کا راستہ روک کر ان کی سازشیں ناکام بنا دی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ پنجاب اسمبلی میں حقوق نسواں کے نام پر بے حیائی کا بد نام زمانہ ترمیمی بل ناموس رسالت کے خلاف ہے ۔ بعض سیاسی قائدین کی ہرزہ سرائی یا سپورٹ سے مذہب کے خانہ کے خاتمے جیسے اقدامات کے خلاف علماء نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ آج 13مئی کو مینار پاکستان پر منعقد ہونے والا ایم ایم اے کا جلسہ پاکستان کی سیاست میں بھونچا ل لانے کا سبب بنے گا۔