دہشت گردوں کے خلاف حتمی جنگ جیتنا باقی ہے جس کیلئے مکمل اتحاد و یکجہتی اور بہادری سے ہمیں مل کر قدم آگے بڑھانے ہیں ،

دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں سے قائد کے پاکستان کو سو فیصد واپس حاصل کرنا ہے، دشمن ہمیں اندر سے کمزور کرنے کے درپے ہے، ہم سب کا فرض ہے کہ عوام کو جوڑنے کیلئے کام کریں، نفرتیں پھیلانے والا پاکستان کا دشمن ہے، پاکستان بلاتفریق رنگ و نسل اور زبان و مذہب ہر شہری کا ملک ہے، اسلام آباد پولیس کیلئے ترقیاتی بجٹ میں ریکارڈ فنڈز مختص کئے ہیں، وفاقی دارالحکومت میں 2 ارب روپے کی مالیت سے پولیس کا اپنا ہسپتال بنایا جائے گا وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال کا 31ویں ریکروٹس کورس اور کائونٹر ٹیررازم فورس کے دوسرے مرحلہ میں تربیت مکمل کرنے والے جوانوں کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب

جمعرات مئی 17:25

دہشت گردوں کے خلاف حتمی جنگ جیتنا باقی ہے جس کیلئے مکمل اتحاد و یکجہتی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف حتمی جنگ جیتنا باقی ہے جس کیلئے مکمل اتحاد و یکجہتی اور بہادری سے ہمیں مل کر قدم آگے بڑھانے ہیں اور دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں سے قائد کے پاکستان کو سو فیصد واپس حاصل کرنا ہے، دشمن ہمیں اندر سے کمزور کرنے کے درپے ہے، ہم سب کا فرض ہے کہ عوام کو جوڑنے کیلئے کام کریں، نفرتیں پھیلانے والا پاکستان کا دشمن ہے، پاکستان بلاتفریق رنگ و نسل اور زبان و مذہب ہر شہری کا ملک ہے، اسلام آباد پولیس کیلئے ترقیاتی بجٹ میں ریکارڈ فنڈز مختص کئے، وفاقی دارالحکومت میں 2 ارب روپے کی مالیت سے پولیس کا اپنا ہسپتال بنایا جائے گا۔

جمعرات کو پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں 31ویں ریکروٹس کورس اور کائونٹر ٹیررازم فورس کے دوسرے مرحلہ میں تربیت مکمل کرنے والے جوانوں کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے سب سے پہلے میں تربیت مکمل کرنے والے جوانوں اور قوم کو ماہ رمضان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یکم رمضان کو تربیت مکمل کرنے والے جوانوں کی پاسنگ آئوٹ پریڈ ان کیلئے اور بھی زیادہ مبارک ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان کئی سالوں سے انتہاء پسندی اور دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے، ہم نے کئی سال دہشت گردوں کا نشانہ بن کر گزارے، سکول، بازار، ہسپتال، مساجد، امام بارگاہوںاور عبادت گاہوں اور معصوم بچوں کی جانوں سمیت کوئی جگہ اس عذاب سے محفوظ نہ تھی، سکیورٹی فورسز، مسلح افواج اور پولیس کے جوانوں اور افسروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، قوم جنازے اٹھا اٹھا کر تھک چکی تھی، ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر تھے اور صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا، دہشت گرد جہاں دل کرتا تھا ملک کو آگ اور خون میں نہلا دیتے تھے لیکن 2013 ء میں حکومت نے عزم کے ساتھ فیصلہ کیا کہ ہم نے دہشت گردوں کا سامنا کرنا ہے، اس کیلئے اے پی ایس اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے جیسے واقعات ٹریگر پوائنٹ بنے جس کے ذریعے حکومت نے تمام فریقین کے ساتھ مل کر ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن شروع کئے۔

اس کے نتیجہ میں بڑی حد تک دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کی کمر توڑ دی گئی، 2018ء کا پاکستان 2013ء کے مقابلہ میں بڑی حد تک محفوظ ہو چکا ہے لیکن ابھی جنگ جاری ہے، ہمیں ابھی بہت سا کام کرنا ہے اور حتمی جنگ جیتنا باقی ہے جس کیلئے مکمل اتحاد و یکجہتی، بہادری سے قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد کے پاکستان کو ان دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں سے سو فیصد واپس حاصل کرنا ہے، ہم ایسا پاکستان آنے والی نسلوں اور اولادوں کو نہیں دے کر جانا چاہتے جس میں لوگ خوف کے ساتھ زندہ رہیں اور نفرتوں کا سامنا کریں، قائداعظم نے ایسا پاکستان بنایا تھا جس میں ہر پاکستانی بلاتفریق رنگ و نسل، زبان و مذہب برابر کا پاکستانی ہو اور جس کی جیب میں بھی پاکستان کا قومی شناختی کارڈ ہے وہ پاکستانی خاندان کا رکن ہے اور ہم اس سے نفرت نہیں کر سکتے صرف پیار کر سکتے ہیں کیونکہ ہم ایک خاندان ہیں۔

انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تربیت اس قوت میں اضافہ ہے جو ریاست دہشت گردی کو مکمل شکست دینے کیلئے پیدا کر رہی ہے اور آپ پیشانیاں اعتماد سے بھرپور نظر آتی ہیں اور آنکھوں میں چمک ہے، یہ اعتماد اور یہ روشنی پورے کیریئر میں آپ کی پہچان رہنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے سیکورٹی اداروں پر فخر ہے، ہمارے سیکورٹی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاتعداد قربانیاں دی ہیں اور اپنے عوام کو تحفظ فراہم کیا ہے۔

انہوں نے تمام شہداء کو سلام پیش کیا جنہوں نے مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وردی میں جان دینا کسی بھی سپاہی اور افسر کا خواب ہوتا ہے اور وطن کے دفاع کیلئے شہادت حاصل کرنے والے خوش قسمت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گولی چلانے والا دہشت گرد قوم کے عزم سے واقف نہیں، پاکستانی قوم کے بیٹے اور بیٹیاں ملک کے چپے چپے کا دفاع کرنے کیلئے پرعزم اور چوکس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والے جوانوں کی شمولیت سے اسلام آباد پولیس مضبوط ہو گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ 6 مئی کو ایک بزدل نے مجھ پر گولی چلائی لیکن حفاظت کرنے والا بڑا ہے، الله نے مجھے موت کے منہ سے نکالا اور نئی زندگی ملنے کے بعد آج میری پہلی سرکاری مصروفیت اسلام آباد پولیس کے جوانوں کی پاسنگ آئوٹ پریڈ میں شرکت ہے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ میں نے جس دن وزارت کا منصب سنبھالا تو اس دن بھی پولیس ڈے منایا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کو بہترین پولیس بنانے کے جس سفر کا ہم نے آغاز کیا ہے انشاء الله اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے، اس سال ترقیاتی بجٹ میں پولیس کیلئے ریکارڈ فنڈز مختص کئے گئے ہیں، سات ماڈل پولیس سٹیشنز بن گئے ہیں جبکہ آئندہ بجٹ میں بھی سات ماڈل پولیس سٹیشنوں کیلئے رقم مختص کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار اینٹی رائٹ پولیس کیلئے بھی بجٹ میں فنڈز فراہم کئے گئے ہیں، 2018ء میں پہلی پروفیشنل اینٹی رائٹ پولیس کا دستہ بھی پاس آئوٹ ہو گا جبکہ آئی سی ٹی کے جوانوں کیلئے بیرکوں کی تعمیر کے منصوبے جو کئی سالوں سے ادھورے تھے، مکمل کر دیئے ہیں، کسی صوبے میں پولیس ہسپتال نہیں ہے جو افسوسناک بات ہے، 2 ارب روپے کی مالیت سے جدید ترین نیشنل پولیس ہسپتال کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری کئے گئے ہیں، یہ پولیس کا پہلا ہسپتال ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا جا رہا ہے، اس وقت پولیس میں صرف تین سمارٹ گاڑیاں ہیں، میں نے ہدایت کی ہے کہ ہر گاڑی کو سمارٹ گاڑی میں تبدیل کیا جائے گا اور اسے سیف سٹی سے لنک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ اور دنیا کا محفوظ ترین دارالحکومت بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، پاکستان کو جدید اقتصادی طاقت بنانا ہے اور صرف میزائلوں اور ٹینکوں سے ملک کا دفاع نہیں ہو سکتا بلکہ اقتصادی ترقی اس کیلئے ناگزیر ہے اور اقتصادی ترقی کیلئے امن ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ پاکستان کے عوام کو جوڑنے کیلئے کام کریں، نفرتیں پھیلانے والا پاکستان کا دشمن ہے اور جو جوڑنے کی بات کرے وہ دوست ہے، آج ہمیں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے، دشمن ہمیں اندر سے کمزور کرنے کے درپے ہے، ہم نے اپنے اتحاد و یکجہتی سے دشمن کو ناکام بنانا ہے۔ قبل ازیں وزیر داخلہ نے پریڈ کا معائنہ کیا اور بعد ازاں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے جوانوں میں انعامات اور اعزازات تقسیم کئے جبکہ تربیت مکمل کرنے والے جوانوں پر مشتمل دستوں نے بہترین پریڈ کا مظاہرہ کیا اور وزیر داخلہ کو سلامی بھی پیش کی۔

اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس ڈاکٹر سلطان اعظم تیموری نے صحت یاب ہونے کے بعد پہلے سرکاری دورہ پر پولیس لائن آنے پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اسلام آباد پولیس سے ان کی محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں سی ٹی ایف کے 380 جوانوں نے شمولیت اختیار کی جبکہ اب 291 جوان پاس آئوٹ ہو رہے ہیں جن میں 230 مرد اور 23 خواتین اور 38 ڈرائیورز شامل ہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے درخواست کی کہ سیلری پیکیج کا مسئلہ وزیراعظم کے وعدے مطابق حل کرنے کیلئے ہدایات جاری کریں۔ اس موقع پر ریسکیو 15 کی پٹرولنگ اور اسلام آباد پولیس کو فراہم کی جانے والی نئی گاڑیوں نے بھی وزیر داخلہ کو سلامی دی۔