الیکشن2018ء: مسلم لیگ ن کے اتحادی ق لیگ سے جا ملے

سربراہ ضیاء لیگ اعجازالحق کی چودھری برادران سےملاقات، مسلم لیگیوں کا اتحاد خوش آئند، نگران وزیراعظم اوروزیراعلیٰ بھی غیرمتنازعہ ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کیلئے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے۔چودھری شجاعت، پرویزالٰہی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل مئی 16:51

الیکشن2018ء: مسلم لیگ ن کے اتحادی ق لیگ سے جا ملے
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 مئی 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی سے مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اعجاز الحق نے یہاں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال کے علاوہ مسلم لیگیوں کے اتحاد اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں چودھری شافع حسین بھی موجود تھے۔ اس موقع پرچودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ مسلم لیگیوں کا اتحاد ضروری اور خوش آئند ہے، آئندہ الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ بھرپور حصہ لے گی اس سلسلے میں سیاسی و انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کروانے کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم ایسا ہونا چاہئے جس پر کسی سیاسی جماعت کو اعتراض نہ ہو جبکہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کا غیر متنازعہ شخصیت ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔اعجاز الحق نے چودھری برادران پرمسلم لیگیوں کے اتحاد پرزور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر تمام مسلم لیگی دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پراکٹھے ہونا پڑے گا۔واضح رہے آئندہ عام انتخابات 2018ء کے پیش نظر سیاسی جماعتوں نے صوبوں ، اور کمزور حلقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے اتحادکرنے جبکہ کچھ سیاسی جماعتوں سے موسمی پرندوں نے اپنی پرانی جماعتوں سے وفاداریاں تبدیل کرنا شروع کردی ہیں۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی بطور وزیراعظم ،پارٹی صدر سپریم کورٹ میں نااہلی کے بعد ن لیگ کے ایسے رہنماء جو 2013ء کے الیکشن میں ہوا کا رخ کردیکھ کرنوازشریف کے دست بازو بنے تھے اب انہوں نے تحریک انصاف کواقتدار ملنے والی پارٹی گردانتے ہوئے شمولیت اختیار کرنا شروع کردی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے اکثر اراکین اسمبلی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار لی ہے۔ جس سے سیاسی ماہرین اندازہ لگا رہے کہ آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کو اقتدار ملنے کا امکان ہے۔