دونوں ملکوں کے درمیان جمود توڑنے کیلئے بھارت کو جنرل قمر جاوید باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دینی چاہیے ،ْ سابق سربراہ را

دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ ایک مشترکہ کتاب لکھتے ہیں یہی ایک غیر معمولی بات ہے ،ْ اے ایس دولت کی گفتگو

منگل مئی 17:49

دونوں ملکوں کے درمیان جمود توڑنے کیلئے بھارت کو جنرل قمر جاوید باجوہ ..
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) بھارت اور پاکستان کے منجمد رشتوں کے درمیان بھارت کے خفیہ ادارے را کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جمود توڑنے کیلئے بھارت کو پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دینی چاہیے۔اے ایس دولت نے یہ بات انڈیا کے ایک سرکردہ ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر بات چیت کے دوران کہی۔

جب ان سے پو چھا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی خراب ہیں ،ْرشتے منجمد ہیں اور امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں کیا کیا جانا چاہیی تو دولت نے جواب دیا کہ کچھ عرصے پہلے ٹریک ٹو کی ایک میٹنگ میں یہ صلاح دی گئی تھی کہ انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر کو لاہور بلایا جائے تاکم پاکستان میں کسی نے اس مشورے کو اہمیت نہیں دی۔

(جاری ہے)

کسی نے بصیرت نہیں دکھائی۔انہوںنے کہاکہ میں بہت پر امید ہوں ،ْوقت بہت بدل چکاہے۔ دونوں کوریا ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں ،ْ کسی نے سوچا تھا کہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات ہوگی ہمیں بھی بڑا سوچنا چاہیے ،ْریڈ کارپٹ بچھائیے۔ جنرل باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دیجیے۔ پھر دیکھے کیا ہوتا ہے۔اے ایس دولت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ ایک مشترکہ کتاب لکھتے ہیں یہی ایک غیر معمولی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن مشکل ضرور ہے لیکن اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر کرنے کیلئے پروازیں بڑھائی جانی چاہئیں اور دونوں ملکوں کو کرکٹ کے روابط فوری طور پر بحال کرنے چاہئیں۔