عمران خان کے ہاتھوں میں وزیر اعظم بننے کی لکیر موجو د نہیں ،100دن کا ڈرامائی منشور دیکر عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے ،

عالمی ادارہ کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے پانچ سال حکومت میں پی ٹی آئی کی کارگردگی صفر رہی ، پی پی پی آئندہ انتخابات میں کے پی سے متعلق جلد منشور سامنے لائی گی سینیٹر مولا بخش چانڈیو نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں پریس کانفرنس

منگل مئی 20:13

عمران خان کے ہاتھوں میں وزیر اعظم بننے کی لکیر موجو د نہیں ،100دن کا ڈرامائی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماو سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ عمران خان کے ہاتھوں میں وزیر اعظم بننے کی لکیر موجو د نہیں ،100دن کا ڈرامائی منشور دیکر عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے ،عالمی ادارہ کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے پانچ سال حکومت میں پی ٹی آئی کی کارگردگی صفر رہی ،پی پی پی آئندہ انتخابات میں کے پی سے متعلق جلد منشور سامنے لائی گی۔

منگل کو نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنماؤں میں سینیٹر مولا بخش چانڈیو، خیبر پختونخوا پی پی پی کے صدر ہمایوں خان گوہر ، سینیٹرروبینہ خالد، رکن قومی راسمبلی نفیسہ شاہ سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کیں۔

(جاری ہے)

سینیٹر مولا بخش چانڈیونے کہا کہ عمران خان کی طرف سے پیش کردہ 100دن کا ایجنڈہ زمینی حقائق سے بہت مختلف ہے،،عمران خان خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں،ان کا لب لہجہ ، مزاج وزیر اعظم بننے کے قابل نہیں، خیبرپختونخوامیں پانچ سال گزار کر کونسا تیر مارا جو اب سو دن میں کریں گے۔

پی ٹی آئی نے جماعت میں سارے کرپٹ لوگ جمع کردیئے،خیبر پختونخوا پی پی پی کے صدر ہمایوں خان نے کہا کہ صحت ،،تعلیم ریفارمز، ایک ارب درخت سمیت صوبہ میں اکاؤنٹیبلیٹی کے سارے دعوے مسترد کرتے ہیں، عمران خان نے کے پی کے عوام کو دھوکہ دیا ہے، ایک منصوبے بی آر ٹی کے لئے لی گئی رقم 41.88 اربجبکہ پچھلے دور حکومت اے این پی اور پی پی پی مخلوط حکومت نے 21 ارب قرضے لئے تھے، اور ریکارڈ کے ترقیاتی منصوبے پائے تکمیل تک پہنچائے تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوات موٹروے کا ڈرامائی افتتاح کردیا گیا کل81 کلومیٹر موٹروے کا صرف 3کلو میٹر حصہ تیا رہو ا ہے جبکہ سیاست چمکانے کے لئے تحتی لگائی گئی۔ رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایجنڈے میں کوئی پلان نہیں تھا، ایجنڈ ا نہیں خواہشات کا مجموعہ تھا، پرویز خٹک کہتے ہیں کہ صوبائی بیورکریسی کو سمجھانے میں تین مہینے لگ گئے ۔ سینیٹر روبینہ خالدنے کہاکہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے ذریعے جو پشاور کی ترقی دکھارہے ہیں اصل میں وہ ہے نہیں، کے پی میں تاحال ون یونٹ قائم نہ ہوسکا۔آپریشن ضرب عضب میں عمران خان دھرنوں میں مصروف تھے۔