اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی امداد وقت کا تقاضا بھی ہے اور مذہبی فریضہ بھی ہے

نائب امیر انصارالامہ جموں وکشمیر و منتظم فلاح امہ ٹرسٹ آزاد کشمیر مولانا محمد سجاد شاہد نے صحافیوں سے گفتگو

منگل مئی 21:33

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی امداد وقت کا تقاضہ بھی ہے اور مذہبی فریضہ بھی ہے ان خیالات کا اظہار نائب امیر انصارالامہ جموں وکشمیر و منتظم فلاح امہ ٹرسٹ آزاد کشمیر مولانا محمد سجاد شاہد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد کے مجموعے کا نام ہے بندوں کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ اگر وہ مصیبت زدہ ہو تو اسکی مصیبت میں اسکی نصرت کیجائے انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں امت مسلمہ ہمیں ابتلاء میں مبتلاء نظرآتی ہے مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین و مجاہدین ہوں یا پھر شام برما اور فلسطین کے مجاہدین و مہاجرین ہوں ہماری امداد کے منتظر ہیں بالخصوص برمی و شامی مہاجرین کی حالت انتہائی ابترہے لاکھوں کی تعدادمیں یہ مہاجرین مختلف سرحدی علاقوں میں بے یارومددگار پڑئے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ آج برمی اور شامی مائیں بہنیں بھیگ مانگنے پر مجبور ہو چکی ہیں انہیں نہ ہی رہائیش نصیب ہے اور نہ ہی اشیاء خوردونوش مہیا ہیں اللہ نہ کرئے کل اگر ایسے حالات ہماری ماوئوں بہنوں کے ساتھ پیش آگے تو پھر ہمارا حال کیا ہوگا جب ایسا سلوک ہمیں اپنی ماوئوں بہنوں کیلے پسند نہیں تو پھر وقت کا تقاضہ بھی ہے اور ہمارا مزہبی فریضہ بھی کہ ہم اسلامی رفاعی اداروں کے زریعہ برمی شامی کشمیری و فلسطینی مہاجرین تک اپنی امداد پہنچائیں اور ان ممالک کے شہدا ء کے اہل خانہ یتیم بچوں کے کفیل ہو جائیں ان نے کہا کہ مصیبت کی اس نازک گھڑی میں ہمارا ادراہ فلا ح ا مہ ٹرسٹ اپنی بساط کے مطابق ان مظلوموں کی مدد میں مصروف ہے مگر جاری منصوبہ جات کی تکمیل آپ مسلمانوں کی مدد کے بغیر ناممکن ہے لہذا تمام مسلمانوں سے گذارش ہے کہ وہ اس نازک اور کڑ ئے و قت میں فلاح امہ ٹرسٹ کے دست و بازو بن جائیں اور اس ٹرسٹ کے زریعہ اپنی امداد مظلوم و دکھی انسانیت تک پہنچا کر عنداللہ ماجورہوں