حکومت آزادکشمیر مہاجرین89 19ء کے ساتھ ہاتھ کر گئی

ملازمتوں کے کوٹے کوپس پشت ڈالنے کے ساتھ ساتھ مہاجرین کے گزاراہ الائونس کو روک دیا گیا

منگل مئی 21:36

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) حکومت آزادکشمیر مہاجرین89 19ء کے ساتھ ہاتھ کر گئی،ملازمتوں کے کوٹے کوپس پشت ڈالنے کے ساتھ ساتھ مہاجرین کے گزاراہ الائونس کو روک دیا گیا،،رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مہاجرین سحری اورافطار نمک اورپانی سے کرنے پر مجبور ہیں،دکانداروں نے ادھا دینے سے منہ موڑلیا، تفصیلات کے مہاجرین 1989ء کویکم مئی کو ملنے والاگزاراہ الائونس 20مئی تک نہ مل سکا 95فیصد مہاجرین کا گزربسر گزارہ الائونس پر ہی ہوتا ہے کئی گھر میں افطار اورسخری نمک اور پانی سے کیا جانے لگا۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق محکمہ بحالیات کے پاس مہاجرین کے گزارہ الائونس کے فنڈز ختم ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے مہاجرین کو گزارہ الائونس نہ مل سکا ۔کمشنر بحالیات احمد عطاء نے چھ دن قبل چار دن کا کہا تھا مگر مہاجرین کو گزارہ الائونس نہ مل سکا ،مہاجرین نے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان اورچیف سیکرٹری سے فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا3دن کے اندر گزارہ الائونس نہ ملا تو سخت احتجاج کریں گے۔