پشاور ہائیکورٹ نے شمشان گھاٹ کیس میں ڈی سی پشاور،ایڈمنسٹریٹر اوقاف اور ناظم ٹاون ون کوطلب کرلیا

منگل مئی 22:27

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس مسرت اللہ ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شمشان گھاٹ کیس میں ڈی سی پشاور،،ایڈمنسٹریٹر اوقاف اور ناظم ٹاون ون کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا گذشتہ روز جب کیس کی سماعت شروع ہو ئی تو وکیل در خواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں شمشان گاٹ نہیں میت لے جانے کے لئے گاڑی بھی نہیں، اقلیتی شہر کی میت کو جلانے کے لئے اٹک لے جایا جاتا ہے استدعا ہے کہ پشاور میں شمشان گاٹ تعمیر کر کے اس کیلئے ایمبولینس فراہم کی جائے حالانکہ حکومت کے پاس پیسے آگے ہیں لیکن ابھی تک کوئی عملی کام نہیں ہواشمشان گھاٹ کے لئے 3 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سرکاری وکیل نے فاضل عدالت کو بتایا کہسکھ برادری کے آپس میں اختلافات ہیں جس کی وجہ سے کوئی عملی کام نہیں ہوا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے سماعت کے دوران اسفتسار کیا کہ کتناعرصہ ہو گیا اب تک شمشان گھاٹ نہیں تعمیرکیاگیا یہ صر ف گڑہے بنانا جانتے ہیں شمشان گھاٹ نہیں بنا سکتے انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ والے اقلیتی برادری کے پیسے کیوں دبا کر بیٹھے ہیں تاہم ہم حکومت سے پیسے نکالنا جانتے ہیںجس نے پیسے دباکر رکھے ان سے پیسے نکال لینگے بحث کے بعدکیس سماعت31 مئی تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ عنوان :