حکومت سانحہ کنڈل شاہی میں مقامی رہائشی صائم کے والد کی مالی مدد کرنے کے علاوہ ایوارڈ سے بھی نوازے ‘صائم دوسروں کو بچانے کی کوشش میں اپنی جان سے بھی گیا ہے

سیاسی و سماجی رہنما ء راجہ عدیل نسیم کی صحافیوں سے بات چیت

بدھ مئی 17:55

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) سیاسی و سماجی رہنما ء راجہ عدیل نسیم نے کہا ہے کہ حکومت سانحہ کنڈل شاہی میں مقامی رہائشی صائم کے والد کی مالی مدد کرنے کے علاوہ ایوارڈ سے بھی نوازے ،صائم دوسروں کو بچانے کی کوشش میں اپنی جان سے بھی گیا ہے،ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ان کا کہناتھا کہ سانحہ کنڈل شاہی میں 12قیمتی جانوں کا ضیاح ہوا کشمیری قوم پنجاب کے مختلف ضلعوں سے تعلق رکھنے والے بچوں اور بچیوں کے لواحقین کے اس دکھ میں ان کے ساتھ ہے ، 22کے قریب طلباء اور طالبات جو پل پر چڑھ کر لطف اندوز ہورہے تھے ، پل جب ہلنے لگا تو تو مقامی رہائشی صائم کے والد نے منع کرنے کی کوشش کی لیکن پانی کا زور و شور اتنا ذیادہ تھا کہ آواز ان تک نہ پہنچ سکی، تو اس نے اپنے بیٹے صائم کو بھیجا کہ پل پر جارکر ان طلباء اور طالبات کو منع کروکہ پل ٹوٹ جائے گا ،صائم جو سب کوبچانے کے لیے پل پر گیا تو پل ٹوٹ گیا جسکی وجہ سے باقی طلبا و طالبات کے ساتھ شفاعت بھی نالے میں ڈوب گیا جسکی کی نعش ابھی تک نہیں مل سکی ہے ، راجہ عدیل نسیم نے حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ صائم دوسروں کو بچانے کے لیے گیا جسکی وجہ سے اپنی جان کی بازی ہار گیا ، حکومت صائم کے والد کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ اسے ایوارڈ سے بھی نوازے ، اور جلد از جلدصائم کی نعش کو بھی برآمد کرنے کی کوشش کرے، دوسروں کو بچانے کی کوشش کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے،

متعلقہ عنوان :