ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپور کے ڈاکٹرز ایم ا ے سی لگے ٹھنڈے کمروں میں مست

چلڈرن وارڈ میں لگے اے سی کولر بند ‘سخت گرمی میں مختلف امراض میں مبتلا

جمعرات مئی 20:46

میرپور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپور کے ڈاکٹرز ایم ا ے سی لگے ٹھنڈے کمروں میں مست ‘چلڈرن وارڈ میں لگے اے سی کولر بند ‘سخت گرمی میں مختلف امراض میں مبتلا ننھے پھول بلبلانے لگے ۔ اپنے بچوں کو گرمی سے روتا بلکتا دیکھ کر والدین پریشان مسیحائوں کے روپ میں ہسپتال پر مسلط جلاد گونگے بہرے بن گئے ۔ شکایات بے اثر حرف شکایت لب پر لانے پر عملہ کی تیما رداروں سے بدتمیزی ایک ایک بیڈ پر چار چار بچے نہ بینچ نہ بیٹھنے کیلئے کوئی اور چیز ننھے بچوں کے ساتھ رہنے والی مائیں یا تیماردار رات دن کھڑے ہو کر گزارنے پر مجبورکوئی پرسان حال نہیں۔

سخت گرمی کی وجہ سے پہلے ہی مختلف امراض کا شکار ننھے پھول بخار کے اضافی مرض کا شکار ۔ تفصیلات کے مطابق سرکاری ہسپتال انتظامی میرپور کے شہریوں کیلئے سہولت کے بجائے عذاب گاہ بنا دیا گیا۔

(جاری ہے)

چلڈرن وارڈ میں لگے اے سی کولر بند یہ سہولت صرف ایم ایس اور ڈاکٹرز کے کمروں تک محدود چلڈرن وارڈ میں داخل مختلف امراض میں مبتلا ننھے پھول سخت گرمی سے رونے بلبلانے لگے۔

مگر کسی کو ان کی حالت پر ترس نہ آیا ۔ شکایت پر عملے کی بدتمیزی بچوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں لے جانے کے مشورے ایم ایس کی کمزور گرفت ملازمین خود سر ایم ایس کے انوکھے نرالے اقدامات نے ہسپتال کا حلیہ بگاڑ دیا۔ مریضوں کو سہولیات دینے کے بجائے انتظامی امور کا تجربہ نہ رکھنے والے سربراہ نے ہسپتال کو مریضو ں کیلئے عذاب گاہ بنا دیا۔ وزیر بھائی اور اثر ورسوخ کے زعم میں مبتلا ایم ایس کوئی بھی بات سننے سے انکاری مریضوں کی خدا سے مدد کی دعائیں۔

متعلقہ عنوان :