فاٹا اصلاحات کا معاملہ انتہائی پیچیدہ تھا، سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے تمام سٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں اور مشاورت کی تھی، اس کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن نے بھی بہت محنت کی تھی۔ ہم جب بھی فاٹا اصلاحات پر پیشرفت کے حوالے سے آگے بڑھتے تھے تو رکاوٹیں اور مسائل سامنے آ جاتے تھے

، بالآخر آج ہم اس بل کو اسمبلی سے منظور کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی یہ پہلے دن سے پالیسی ہے کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے، محمد نواز شریف کے انٹرویو سے غلط نتیجہ اخذ کیا گیا، جو کچھ اخبار میں شائع ہوا وہ مس رپورٹنگ تھی، نگراں وزیراعظم کے حوالے سے (آج) جمعہ تک اگر کسی ایک نام پر اتفاق رائے نہیں ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا جائے گا، 28 جولائی کے عدالتی فیصلے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ حکومت مدت پوری نہیں کر سکے گی، سینٹ الیکشن نہیں ہوں گے مگر حکومت اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے، سینٹ الیکشن بھی ہو چکے ہیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

جمعرات مئی 23:38

فاٹا اصلاحات کا معاملہ انتہائی پیچیدہ تھا، سرتاج عزیز کی سربراہی میں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ فاٹا اصلاحات کا معاملہ انتہائی پیچیدہ تھا، محمد نوازشریف نے اس بل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے بہت محنت کی تھی، سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے تمام سٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں اور مشاورت کی تھی، اس کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن نے بھی بہت محنت کی تھی۔

ہم جب بھی فاٹا اصلاحات پر پیشرفت کے حوالے سے آگے بڑھتے تھے تو رکاوٹیں اور مسائل سامنے آ جاتے تھے، بالآخر آج ہم اس بل کو اسمبلی سے منظور کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی یہ پہلے دن سے پالیسی ہے کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے، محمد نواز شریف کے انٹرویو سے غلط نتیجہ اخذ کیا گیا، جو کچھ اخبار میں شائع ہوا وہ مس رپورٹنگ تھی، نگراں وزیراعظم کے حوالے سے (آج) جمعہ تک اگر کسی ایک نام پر اتفاق رائے نہیں ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا جائے گا، 28 جولائی کے عدالتی فیصلے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ حکومت مدت پوری نہیں کر سکے گی، سینٹ الیکشن نہیں ہوں گے مگر حکومت اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے، سینٹ الیکشن بھی ہو چکے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تمام فاٹا ارکان سے مشاورت کی گئی تھی، اسمبلی کے اندر 11 میں سے 9 ارکان اس بل کی حمایت کر رہے تھے، ووٹنگ کے وقت فاٹا کے ارکان اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اسمبلی میں موجود نہیں تھے اور کچھ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور کچھ غیر حاضر رہے، فاٹا اصلاحات بل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے دوران ایسے ایسے مسائل بھی سامنے آئے جو ہماری سوچ میں بھی نہیں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان ہمارے پرانے ساتھی اور دوست ہیں، ان سے اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن کوئی جھگڑا نہیں، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ چوہدری نثار علی خان کہیں نہیں جا رہے، ہمیں پارٹی کے اندر 30 سال ہو گئے ہیں، اب ہم کسی اور پارٹی میں جانے کے بجائے اپنے گھر جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی میڈیا سے بات چیت کے حوالے سے کہا کہ یہ میرا فیصلہ تھا کہ میڈیا سے گفتگو پی ٹی وی پر براہ راست نہ دکھائی جائے کیونکہ براہ راست دکھانے سے تاثر اور بھی غلط پیدا ہو سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی یہ پہلے دن سے پالیسی ہے کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے، محمد نواز شریف کے انٹرویو سے غلط نتیجہ اخذ کیا گیا، جو کچھ اخبار میں شائع ہوا وہ مس رپورٹنگ تھی۔ نگراں وزیراعظم کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ (آج) جمعہ تک اگر کسی ایک نام پر اتفاق رائے نہیں ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تین نام اور اپوزیشن لیڈر نے بھی تین نام پیش کئے تھے، ان تمام ناموں پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا، اب کسی اور نام پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی ٹاک شوز پر نگراں وزیراعظم کے حوالے سے کئی ایسے نام سامنے آتے ہیں جو ہماری مشاورت میں شامل ہی نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف نگراں وزیراعظم کا فیصلہ کریں گے جبکہ نگران کابینہ کے حوالے سے نگران وزیراعظم ہی فیصلہ کریں گے۔

پرویز مشرف کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو عدالتی حکم پر ملک سے باہر جانے دیا گیا، چوہدری نثار علی خان کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ پرویز مشرف کو واپس لانے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس بار ے میں عدالت جو بھی حکم دے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ اصغر خان کیس کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بہت پرانا ہے، اس پر کسی نے پیشرف نہیں کی تاہم آئندہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایسے تمام معاملات کو حل کرنے کے لئے ایک ٹرتھ کمیشن بنانا پڑے گا، جس کے ذریعے ہم مسقبل کے حوالے سے معاملات کا تعین کر سکتے ہیں، کئی ممالک میں اس طرح کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 28 جولائی کے عدالتی فیصلے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ حکومت مدت پوری نہیں کر سکے گی، سینٹ الیکشن نہیں ہوں گے مگر حکومت اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے، سینٹ الیکشن بھی ہو چکے ہیں۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ رواں ماہ اڑھائی ہزار کا شارٹ فال ہے، جس کی وجہ پانی کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پانی کا مسئلہ ہمارے لئے انتہائی اہم ہے، جتنا پانی ضائع ہوتا ہے اس کا آدھا بھی بچا لیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی پہلی واٹر پالیسی بنائی ہے، پاکستان کیلئے مستقبل کا سب سے بڑا چیلنج پانی کی کمی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2013ء کے مقابلے میں اس سال ماہ اپریل اور مئی میں بجلی کی طلب 50 فیصد بڑھی ہے، ہم نے بجلی سے متعلق جو وعدے کئے تھے وہ کافی حد تک پورے کئے ہیں اور 2013ء کے مقابلے میں آج حالات بہت بہتر ہے، افطار اور سحری کے دوران ملک میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے، 8 روزے گزر چکے ہیں اس دوران 4 سے 10 بجے تک کسی بھی جگہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی، ملک میں 90 فیصد فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی، بجلی کی چوری بھی اس نظام میں ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو ماہ تک پانی کی کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے خودکار اسلحے کے لائسنس ختم کئے اور اسلحہ لائسنس کا حصول آسان کیا، ہماری کوشش ہے کہ خودکار اسلحہ غیر سرکاری لوگوں کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔