پشتو نخوا میپ کی مرکزی کونسل کا اجلا س، آئین وقانون کی حکمرانی کیلئے جدوجہد تیز کرنے کا فیصلہ

پشتونخوامیپ پشتون غیور ملت اور پشتونخوا وطن کو قومی اور وطنی مفادات کی محافظ پارٹی ہے ، پارٹی نے اپنی تاریخ کے ہر مشکل مرحلے میں جابر استعماری قوتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے ،محمود خان اچکزئی

اتوار مئی 21:10

وئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے قومی جرگہ (مرکزی کونسل) کا اجلاس کوئٹہ میں پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پشتونخوا وطن کے تمام علاقوں اور ملک بھر سے قومی جرگے کے اراکین نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔سٹیج سیکرٹری کے فرائض پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین خیبر پشتونخوا کے صوبائی صدر مختیار خان یوسفزئی نے سرانجام دیئے ۔

اجلاس میں پارٹی کی کارکردگی کاتفصیل سے تنقیدی جائزہ لیا گیا اور تنظیمی امور کے حوالے سے اہم فیصلے کیئے گئے ۔ اجلاس میں پارٹی اداروں کے عہدیداروں کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اکتوبر 2018میں پارٹی کی قومی کانگرس اور پشتونخو اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قومی کنونشن کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ۔

(جاری ہے)

پارٹی کے مرکزی ، جنوبی پشتونخوا ، خیبر پشتونخوا اور سندھ کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں لایا گیا جس کے مطابق محمود خان اچکزئی پارٹی چیئرمین ، مختیار خان یوسفزئی سینئر ڈپٹی چیئرمین، حاجی فضل قادر شیرانی ڈپٹی چیئرمین ، اکرم شاہ خان مرکزی جنرل سیکرٹری ، خورشید کاکا جی سینئر سیکرٹری ، ڈاکٹر کلیم اللہ خان سیکرٹری مالیات ، رضا محمد رضا مرکزی سیکرٹری اطلاعات ،عبدالرحیم زیارتوال، عثمان خان کاکڑ ، سردار مصطفی خان ترین ، عبید اللہ جان بابت ، نواب ایاز جوگیزئی، عبدالرئوف لالا ، صابرین خان چغرزئی ،،ڈاکٹر حبیب اللہ ،مرکزی ایگزیکٹو منتخب ہوئے ۔

جبکہ عثمان خان کاکڑ جنوبی پشتونخوا کے صوبائی صدر ، سردار اعظم موسیٰ خیل سینئر نائب صدر ، عبدالقہار خان ودان ، نائب صدر ، عبدالرحیم زیارتوال صوبائی سیکرٹری ، سردار مصطفی خان ترین ، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، نصراللہ خان زیرے ، محمد عیسیٰ روشان، سید شراف آغا، عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ، یوسف خان کاکڑ ، فقیر خوشحال کاسی ، عبدالمجید خان اچکزئی ،علائوالدین کولکوال، احمد جان خان صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز منتخب ہوئے ۔

اسی طرح مختیار خان یو سفزئی خیبر پشتونخوا کے صوبائی صدر ،،ڈاکٹر حبیب اللہ سینئرنائب صدر ، اکرام خان نائب صدر ، خورشید کاکاجی صوبائی سیکرٹری ، ڈاکٹر خالد محمود ، ستاہ روم خان ، عمر علی یوسفزئی ، حمید خان ، علی حیدر خان ، اکبر ہوتی ، غفور لالا ، جہانگیر خان مومند ، ملک شوکت ، عصمت اللہ شاہ ،سلطان خان شیرانی ، حیدر خان مومند صوبائی ڈپٹی سیکرٹری منتخب ہوئے ۔

جبکہ نذیر جان لالا صوبہ سندھ زون کے صوبائی صدر ، سلیم خان ترین سینئر نائب صدر ، سکندر یوسفزئی نائب صدر ، صابرین چغرزئی صوبائی سیکرٹری ، نور اللہ ترین ، ڈاکٹر افضل ودود، بشیر خان مندوخیل ، سید غفور جان، سیف الدین افغانی ، شفیع ترین ، سید صدیق آغا ، سید یوسف آغا، محمد شاہ مندوخیل ، بصیر خان بادیزئی، سراج خان ، افضل خان وطنیار صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز منتخب ہوئے ۔

قومی جرگے کے اجلاس نے وسطی پشتونخوا ((فاٹا))کی تاریخی آزاد حیثیت کے خاتمے اور فاٹا کے عوام کی مرضی کے برخلاف گن پوائنٹ پر خیبر پشتونخوا میں مدغم کرنے اورخیبر پشتونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن کے قبائلی علاقوں اور جنوبی پشتونخوا کے ژوب ڈویژن کے پشتون اضلاع کے قبائلی علاقوں کی تاریخی خصوصی حیثیت کی غیر آئینی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے 24مئی کو پشتون افغان غیور ملت کی محکومی کا ایک اورسیاہ دن قرار دیا ہے ۔

اجلا س میں پشتون افغان ملت کی قومی محکومی کے خاتمے ، ملی وحدت کی بحالی ،بولان تا چترال متحدہ قومی صوبہ پشتونخوا کے قیام ، آزاد جمہوری افغانستان میں مداخلت کے خاتمے ، ملک میں قوموں کی برابری ، عوام کی حکمرانی پر مبنی جمہوری فیڈریشن کی تشکیل اور آئین وقانون کی حکمرانی کیلئے جدوجہد تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ اور ملکی ایجنسیوں کی ملکی سیاست میں کھلی مداخلت کو ملکی آئین وقانون کی واضح خلاف ورزی اوراسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار پارٹیوں کی قیام کوآنیوالے انتخابات میں دھاندلی کا استعماری منصوبہ قرار دیا ہے ۔

اجلاس میں آنیوالے انتخابات میںپارٹی کا بھرپور حصہ لینے اورپشتون افغان ملت کی قومی اور وطنی مفادات کی بھرپور دفاع کو انتخابی مہم کا بنیادی نقطہ قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے قومی جرگی(مرکزی کونسل ) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی جرگے کے تمام اراکین کو کامیاب اجلاس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی جرگے نے پارٹی کو متحد ومنظم کرنے کیلئے جو فیصلے کیئے ہیں اس کے نتیجے میں پارٹی کے تمام کارکن نئے عزم اور ولولے کے ساتھ قومی نجات کی جدوجہد کے میدان میں اترینگے۔

انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ پشتون غیور ملت اور پشتونخوا وطن کو قومی اور وطنی مفادات کی محافظ پارٹی ہے ، پارٹی نے اپنی تاریخ کے ہر مشکل مرحلے میں جابر استعماری قوتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور قومی واک واختیار ملی وحدت اور عوام کی جمہوری اقتدار کی راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وسطی پشتونخوا ((فاٹا)) تاریخی طور پر آزاد علاقہ رہا ہے یہ برٹش انڈیا کا حصہ نہ تھا اور نہ ہی قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا حصہ تھا ۔

قیام پاکستان کے بعد فاٹا کی آزاداور خصوصی آئینی حیثیت 70سال تک قائم تھی ملکی آئین کے مطابق فاٹا کے جرگے کی منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا لیکن فاٹا اصلاحات کے نام پر فاٹا کے عوام کی مرضی کے برخلاف فاٹا کی تاریخی آزاد حیثیت کو غیر آئینی اقدامات کے ذریعے ختم کیاگیا ہے جس کے تباہ کن نتائج کی ذمہ داری ان قوتوں پر عائد ہوگی جنہوں نے فاٹا کو گن پوائنٹ پر خیبر پشتونخوا میں ضم کرنے کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبر پشتونخوا، جنوبی پشتونخو ا اور بلوچستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی خصوصی حیثیت کو بھی غیر آئینی اقدام کے ذریعے ختم کیا گیاہے ۔

ان غیر آئینی اقدامات کا واضح مقصد ملک میں پشتون افغان ملت کی 70سال کی قربانیوں سے حاصل کردہ تمام آئینی وجمہوری حقوق واختیارات کو واپس لینا ہے ایسے حالات میں پشتونخوا وطن کی تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ باہم متحد ہوکر اپنے قومی وجود کی بقاء ،قومی واک واختیار،جمہوری اقتدار اور اپنے قدرتی وسائل کی دفاع اور اپنے خوشحال مستقبل کیلئے مشترکہ جدوجہد کرے۔

انہوں نے کہاکہ پشتون اس ملک میں دوسرے درجے کی شہری کی حیثیت ہر گز قبول نہیں کرینگے اور قومی محکومی اور محرومی کے خاتمے کے مطالبے سے ہر گز دستبردار نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے تمام مطالبات آئینی اور برحق ہے جس کو پشتونخوا وطن کے تمام عوام اور جمہوری قوتوں کی تائید وحمایت حاصل ہے ۔ پشتونخوامیپ پی ٹی ایم کے جائز مطالبات کی پر امن جمہوری تحریک کی بھرپورتائید کریگی اور پی ٹی ایم محکوم پشتونخوا وطن میں چار دہائیوں سے جاری دہشتگردی کی مسلط کردہ جنگ کا منطقی نتیجہ ہے ۔

قومی جرگے نے پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین اور پشتون قومی تحریک کے عظیم رہنماء مرحوم عبدالرحیم خان مندوخیل ، سابق صوبائی صدر مرحوم محمد جان لالا اور پارٹی کے دیگر مرحوم رہنمائوں وکارکنوں کی مغفرت کیلئے دعا کی ۔