فاٹا کا انضمام اسمبلی نے خود نہیں کیا ،ْ اس سے کرایا گیا ہے ،ْ مولانا فضل الرحمن

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے فاٹا انضمام نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی ،ْہم ابھی مشرقی تنازعات سے نکلے نہیں اور مغربی تنازعات کو دعوت دے دی ہے ،ْاب بھی سمجھتے ہیںفاٹا کے عوام کی رائے لی جائے ،ْ 120دن دھرنا دیا سب نے برداشت کیا ،ْجب جے یو آئی (ف) کے کارکنوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تو لاٹھیاں برسائی گئیں ،ْکشمیریوں کے لیے حق مانگتے ہیں ،ْ اپنے لوگوں کو حق نہیں دے سکتے ،ْاپنا معاملہ قبائل جرگے کے سامنے رکھوں گا ،ْجسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک نیک نام آدمی ہیں، ہم ان کی نامزدگی کی حمایت کرتے ہیں ،ْجے یو آئی کے سربراہ کی پریس کانفرنس

منگل مئی 22:22

فاٹا کا انضمام اسمبلی نے خود نہیں کیا ،ْ اس سے کرایا گیا ہے ،ْ مولانا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ فاٹا کا انضمام اسمبلی نے خود نہیں کیا بلکہ اس سے کرایا گیا ہے ،ْ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے فاٹا انضمام نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی ،ْہم ابھی مشرقی تنازعات سے نکلے نہیں اور مغربی تنازعات کو دعوت دے دی ہے ،ْاب بھی سمجھتے ہیںفاٹا کے عوام کی رائے لی جائے ،ْ 120دن دھرنا دیا سب نے برداشت کیا ،ْجب جے یو آئی (ف) کے کارکنوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تو لاٹھیاں برسائی گئیں ،ْکشمیریوں کے لیے حق مانگتے ہیں ،ْ اپنے لوگوں کو حق نہیں دے سکتے ،ْاپنا معاملہ قبائل جرگے کے سامنے رکھوں گا ،ْجسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک نیک نام آدمی ہیں، ہم ان کی نامزدگی کی حمایت کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فاٹا کے معاملہ پر جو رویہ اختیار کیا گیا اس نے پاکستان کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں ،ْحکومت اور وزراء اعتراف کر چکے کہ فاٹا انضمام ہماری رائے اور حقائق کے خلاف ہے اور ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق وہی ہیں جو فضل الرحمن کہتا آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے فاٹا انضمام نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ رواج ایکٹ پر کارروائی روکنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی، ہم نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی توسیع پر بھی اتفاق رائے نہیں کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میں نے بند کمروں اور کھلے عام بھی اپنا موقف سب کے سامنے کہا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ اور وزیر اعظم سے کہا کہ افغانستان کی جانب سے مشکلات آسکتی ہیں اور فاٹا کے انضمام پر افغانستان کا 24 گھنٹے میں ردعمل آیا۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم ابھی مشرقی تنازعات سے نکلے نہیں اور مغربی تنازعات کو دعوت دے دی ہے ،ْ اگر آنے والے حالات میں کوئی ایندھن بنے گا تو وہ صرف قبائل کے عوام ہوں گے ،ْ کیا قبائل کے عوام صرف اس مقصد کیلئے بنے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ فاٹا کے عوام سے رائے لی جائے، یہاں 120 دن دھرنا دیا سب نے برداشت کیا لیکن جب جے یو آئی (ف) کے کارکنوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تو ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں، جبکہ اب میں اپنا معاملہ قبائل جرگے کے سامنے رکھوں گا۔انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان ممنون حسین کو بھی ان تمام حقائق کا علم ہونا چاہیے ،ْ اگر آخری دستخط ان کی ذمہ داری ہے تو وہ اسے روک دیں کیونکہ عوامی ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے جو بڑھتا چلا جائیگا جبکہ عوامی ردعمل کا وزیر اعظم کو بھی اندازہ ہے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کہاکہ فاٹا کا انضمام اسمبلی نے کیا نہیں اس سے کروایا گیا ہے ،ْیہ کام پارلیمنٹ کی گردن مروڑنے والی قوت نے کروایا ہے، ہم کشمیریوں کے لیے حق مانگتے ہیں لیکن اپنے لوگوں کو حق نہیں دے سکتے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’فاٹا اگر پسماندہ ہے تو پنجاب کا جنوبی علاقہ پسماندگی نہیں پنجاب میں پسماندگی کم کرنے کیلئے الگ صوبہ مانگتے ہیں اور فاٹا کی پسماندگی دور کرنے لے لیے اسے ضم کیا جارہا ہے ،ْتاہم ہم فاٹا کے حقوق کی جنگ لڑیں گے ۔

نگراں وزیر اعظم کی نامزدگی سے متعلق مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک نیک نام آدمی ہیں، ہم ان کی نامزدگی کی حمایت کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب پر جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ہم نے ذاتی مفاد کیلئے معاملات کے طے نہیں کیے بلکہ نظریاتی حوالے سے معاملات طے کیے، میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) سے گلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ انہوں نے نہ معاہدے پر عمل کیا اور نہ ہی ہماری 5 سالہ وفاداری کا صلہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں پارلیمنٹ نے آخری دنوں میں آکر بدنیتی کا مظاہرہ کیا ،ْتمام پارٹیوں نے بدنیتی ظاہر کی اور اجتماعی خودکشی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فاٹا بل پر جو کچھ ہوا ہے وہ بھیانک ہے، جو لوگ اس اسمبلی پر لعنت بھیجتے تھے اور جعلی کہتے تھے، اس اجلاس میں وہ بھی حاضر ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ فاٹا سے ایف سی آر کا خاتمہ ہوگیا ہے لیکن نئے نظام نے اب تک اس کی جگہ نہیں لی ہے جس سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ سیاسی جماعتوں کا یہ حال ہے کہ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی نے جمرود میں مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے جس میں کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں پولیس کی عملداری نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو خود نہیں پتا کہ انہوں نے کمایا ہے یا گنوایا ہے۔