کارکنوں کی محبت و اتحاد کی وجہ سے پتنگ کا نشان ہمیں الاٹ کیا گیا ہے ،ڈاکٹرفاروق ستار

الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں پر احتجاج پرکان نہیں دھرا، اگر تحفظات حل نہ ہوئے تو ایم کیوایم الیکشن کے بائیکاٹ کااعلان کرسکتی ہے کراچی میں انتخابات نہیں ہونگے فکس میچ ہوگا، سیٹیں تقسیم کی جائیں گی کچھ پی ایس پی کچھ بہادر آبا اور کچھ پیپلز پارٹی کو دی جائیں گی،پریس کانفرنس

بدھ مئی 18:26

کارکنوں کی محبت و اتحاد کی وجہ سے پتنگ کا نشان ہمیں الاٹ کیا گیا ہے ،ڈاکٹرفاروق ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ان کی محبت و اتحاد کی وجہ سے پتنگ کا نشان ہمیں الاٹ کیا گیا۔۔الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں پر احتجاج پرکان نہیں دھرا اور ایم کیوایم کے دفاتر ابھی تک واپس نہیں ملے اگر تحفظات حل نہ ہوئے تو ایم کیوایم الیکشن کے بائیکاٹ کااعلان کرسکتی ہے۔

کراچی میں انتخابات نہیں ہونگے فکس میچ ہوگا، سیٹیں تقسیم کی جائیں گی کچھ پی ایس پی کچھ بہادر آبا اور کچھ پیپلز پارٹی کو دی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے حلقہ بندیوں پرہمارے کسی احتجاج پرکان نہ دھرا تھا۔

(جاری ہے)

کراچی میں جونونولاکھ پرحلقے بنے ہیں ان پرحیران ہوں ۔

میرا حلقہ مکمل ختم کر کہ ڈیفنس کلفٹن لیاری سے ملادیا گیا۔اولڈسٹی ایریا کے علاقوں کو ڈسٹرب کردیا گیا۔ہمیں مائنس کیا نہیں جارہا کردیا گیا ہے۔۔الیکشن ہماری بقا کی ضمانت نہیں دے سکتا ہے۔جوزیادتیاں ہمارے ساتھ ہوئیں سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں پر احتجاج پرکان نہیں دھرا اور ایم کیوایم کے دفاتر ابھی تک واپس نہیں ملے اگر تحفظات حل نہ ہوئیتو ایم کیوایم الیکشن کے بائیکاٹ کااعلان کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کا مینڈیٹ لے کر کسی اور کو دیا جارہا ہے، ہمیں مائنس کیا نہیں جارہا بلکہ کردیا گیا ہے، الیکشن ہماری بقا کی ضمانت نہیں دے سکتا، جوزیادتیاں ہمارے ساتھ ہوئیں سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم الگ صوبے کا مطالبہ کرتے رہیں گے، 2 نہیں 100 سے زیادہ انتظامی یونٹ بننے کی ضرورت ہے، ہمیں الگ صوبے کی بات کرنے پر لعنتیں سننی پڑیں، ایم کیوایم کا ہرساتھی الگ صوبے کا خواہاں ہے، جب سب الگ صوبہ چاہتے ہیں تو پھر سب کو اپنے حقوق کے لیے لڑناہوگا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہیٹ وے میں کراچی واٹر سیوریج بورڈ اور کے الیکٹرک کی شکایات ہیں۔لوگ جانوں پرکھیل کرمظاہرے کررہے ہیں۔اسپتالوں کی حالت زار جتنی بہتر ہواتنی ہی مریضوں کی دیکھ بھال کی جاسکتی ہے۔میونسپل کارپوریشن نے ہیٹ اسٹروک میں بہت کم کیمپ لگائے ۔میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کیمپوں کا معائنہ کریں ۔درخت کٹ رہے ہیں ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے ۔

پانی کی کمی کی وجہ سے فسادات کا خدشہ ہے۔۔پانی اور نکاسی آب کے حوالے سے وفاقی صوبائی حکومت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔صرف بجٹ میں پانی کے پلانٹس کے فور کا ذکر کرنا کافی نہیں ۔کے فور دوہزار بیس میں بھی کے فور کا منصوبہ مشکل لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسموں کی تبدیلی سے کیا اثرات مرتب ہونگے اس پر خاص توجہ دینی چاہیے۔۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ڈاکٹر محمد فاروق ستار اور عامر خان کی درخواست پر ہمارا روایتی نشان پتنگ ہمیں الاٹ کردیا ۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ایم کیو ایم کی رجسٹریشن ڈاکٹر فاروق ستار کے نام پر ہے ۔۔ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہو اور ان کی تعریف کرتا ہو کہ ان کی محبت و اتحاد کی وجہ سے پتنگ کا نشان ہمیں الاٹ کیا گیا ۔جب بانیان پاکستان کو اولادوں کو لعنت دی گئی لیکن بہادرآباد کے ساتھیوں کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں دیا جسکا افسوس ہے ۔

بہادرآباد کی جانب جب کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو میں پھر خود میدان عمل میں آیا ۔رمضان میں لیاقت آباد میں بھرپور اجتجاجی مظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ غیر منصفانہ مردم شماری اور حلقہ بندیوں کے نام پر الیکشن سے قبل منظم دھاندلی کی گئی ہے ۔انتظامی بنیاد پر نئے صوبے بننے چاہیے۔جنوبی سندھ اور سندھ میں دو سے زائد صوبے کا مطالبہ کرتا ہوں اور اس کی جدوجہد کریں گے۔

اب پاکستان میں نئے صوبوں کی تحریک چلائے گے ۔مہاجر ووٹ اور اتحاد کے لئے بہادرآباد کے ساتھیوں کے ساتھ تمام اختلافات بھلا کر ساتھ ملکر جلسہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ پی آئی بی میں موجود تمام ساتھی آنے والے الیکشن کی تیاری کریں ۔ ہمیں سیاسی آزادی دی جائے ۔۔مردم شماری میں ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی۔ 5 فی صد مردم شماری کی تصدیق نہیں کی گئی ۔۔مردم شماری جب درست نہیں ہوگی تو حلقہ بندیاں کیسے درست قرار دی جاسکتی ہے ۔

مردم شماری اور حلقہ بندیوں میں ناانصافی الیکشن سے قبل دھاندلی کی گئی ہے ۔ہمارے بند دفاتر ہم کو واپس دئے جائے ۔اگر الیکشن سے قبل سیٹوں کی تقسیم کی جارہی ہے جو نظر آرہا ہے ۔جنوبی سندھ کی تحریک چلائے بغیر ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے ۔ جنوبی سندھ صوبے کے قیام کے لئے جہدوجہد کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر زیادتیوں اور ناانصافیوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا اوراسی قسم کی صورتحال پیدا کی گئی تو ایم کیو ایم پاکستان الیکشن سے بائیکاٹ کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان سے کہتا ہو کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے نوٹس لیں ۔۔حلقہ بندیوں میں کا یہ حال ہے کہ جس حلقہ سے میں الیکشن لڑا وہ سیٹ ہی ختم کردی ۔غیر منصفانہ مردم شماری اور حلقہ بندیوں کے زریعے ایم کیو ایم کو مائنس کیا جارہا ہے ۔۔الیکشن سے قبل کراچی کی انتخابی سیٹوں کو بندر بانٹ کردی گئی ہے ۔۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہماری شکایات پر توجہ دینی چاہیے۔ہم جنوبی صوبہ سندھ کی تحریک سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے ۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور خورشید شاہ کے بیان سے اردو بولنے والوں کو تکلیف پہنچی ہیں ۔ ایم کیو ایم نگران وزیر اعلی کے لئے شیخ آفتاب احمد کا نام تجویز کرتی ہے ۔ہمیں اپنے لوگوں کے مسائل کے حل کی جانب توجہ دینی ہے۔