احتساب عدالت نے ڈاکٹر عاصم کے خلاف چار سو باسٹھ ارب روپے کرپشن ریفرنس کی سماعت9جون تک ملتوی کردی

جمعہ جون 19:53

احتساب عدالت نے ڈاکٹر عاصم کے خلاف چار سو باسٹھ ارب روپے کرپشن ریفرنس ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) احتساب عدالت نے ڈاکٹر عاصم کے خلاف چار سو باسٹھ ارب روپے کرپشن ریفرنس کی سماعت9جون تک ملتوی کردی جبکہ ڈاکٹر عاصم نے بیرون ملک جانے کے لیئے درخواست دائر کردی ہے ۔

(جاری ہے)

جمعہ کو احتساب عدالت میں ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کے خلاف 462 ارب روپے کرپشن ریفرنس کی سماعت ہوئی جہاں ڈاکٹر عاصم حسین، سابق سیکرٹری پیٹرولیم اعجاز چوہدری، اطہر حسین اور دیگر ہیش ہوئے ایس ایس جی سی گواہ، زاہد حسین اور شاہد حسین کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اطہار کیا عدالت نے ڈاکٹر عاصم کے خلاف 9 جون کو گواہ پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ گواہوں کو شواہد بھی پیش کرنے کا بھی حکم دیا ڈاکٹر عاصم حسین کی جانب سے ملک سے باہر جانے کے لیے ایک بار پھر درخواست دائر کردی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اہلیہ ڈاکٹر زرین لندن کے اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کا کینسر کا آپریشن ہونا ہے، 12 جون سے 10 جولائی تک ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے، عدالت نے نیب سے ڈاکٹر عاصم کی درخواست پر جواب طلب کرلیا احتساب عدالت میں سماعت کے موقع پر ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ انتخابات وقت پر ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں،شاید ایک آدھ مہینہ انتخابات ملتوی ہو جائیں لیکن انتخابات ہوں گے،،نواز شریف کو کچھ نہیں ہوگا وہ ان سب چیزوں سے بچ جائیں گے،پہلے بھی سمجھوتے ہوئے تھے اب بھی ہو جائیں گے،،مسلم لیگ ن والوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا زمہ دار چوہدری نثار ہے،،چوہدری نثار مورلی کرپٹ انسان ہیں پیپلز پارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جیسی سب کی رہی ویسے پیپلز پارٹی کی رہی جبکہ پیپلز پارت اور پی ٹی آئی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی کسی کا بھی کسی کے ساتھ اتحاد ہو سکتا ہے، ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ اس ملک میں الیکشن لڑنا ہی نہیں چاہیے،19 ماہ وزیر 2 سال کی جیل اور زندگی بھر کی ذلت،اس ملک میں میرے جیسا شریف آدمی الیکشن نہیں لڑ سکتا،اس ملک میں اب الیکشن صرف ڈان ہی لڑ سکتا ہے صحافی کے سوال پرا ن کا کہنا تھا کہ ملک میں سب وڈیرے ڈان ہیں،ہمارے جیسا عام انسان کیسے انتخابات لڑ سکتا ہے وہ جوتے کھائے گا،پہلے پاکستان بناوں پھر پنجاب کو پاکستان دو اور بعد میں یہ حشر ہوتا ہے