19 ماہ کی وزارت ، زندگی بھر کی ذلت؛ بڑے سیاستدان نے الیکشن لڑنے سے توبہ کر لی

الیکشن لڑنا ہی نہیں چاہیے، الیکشن کے بعد 19 ماہ کی وزارت، دو سال کی جیل اور زندگی بھر کی ذلت ہے،ڈاکٹر عاصم

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ جون 19:50

19 ماہ کی وزارت ، زندگی بھر کی ذلت؛ بڑے سیاستدان نے الیکشن لڑنے سے توبہ ..
کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-02 جون 2018ء ) :19 ماہ کی وزارت ، زندگی بھر کی ذلت کا تذکرہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے بڑے سیاستدان نے الیکشن لڑنے سے توبہ کر لی۔۔ڈاکٹر عاصم کیس کا کہنا تھا کہ الیکشن لڑنا ہی نہیں چاہیے، الیکشن کے بعد 19 ماہ کی وزارت، دو سال کی جیل اور زندگی بھر کی ذلت ہے۔تفصیلات کے مطابق 2018 پاکستان میں عام انتخابات کا سال ہے۔جیسے جیسے انتخابات قریب سے قریب تر آ رہے ہیں سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

شاس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے جلسوں کی صورت میں سیاسی پاور شو کے سلسلے بھی جاری و ساری ہیں اور ان جلسوں میں بڑے بڑے سیاسی نام اپنی پارٹیوں کو خیر باد کہہ کر نئی جماعتوں کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداریوں کا اعلان کر رہے ہیں۔سیاسی کارکنان اور رہنما اپنے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحت سیاسی وفاداریاں تبدیل کررہے تو دوسری جانب متعلقہ اداروں نے بھی انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے بڑے بڑے سیاسی رہنماوں کی جانب سے بھی مختلف حلقوں سے انتخابات لڑنے کے اعلان کئیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف ایک سیاستدان ایسا بھی ہے جس نے ہمیشہ کے لیے انتخابات لڑنے سے توبہ کر لی ہے۔وہ کرپشن کیسسز میں پھنسے ڈاکٹر عاصم ہیں۔ جمعہ کو احتساب عدالت میں میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھا کہ س ملک میں الیکشن لڑنا ہی نہیں چاہیے، الیکشن کے بعد 19 ماہ کی وزارت، دو سال کی جیل اور زندگی بھر کی ذلت ہے، نواز شریف کو کچھ نہیں ہو گا۔

ان کے کیس میں سمجھوتہ ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عاصم کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور وہ ان کی اسیری کے دوران ان کے معالج بھی رہے۔اکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد انہیں 2008 چیئرمین نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو تعینات کیا گیا، 2009 میں سینیٹر منتخب کیا گیا لیکن سپریم کورٹ کے دوہری شہریت کے بارے میں فیصلے کے بعد انہیں 2012 میں مستعفی ہونا پڑا۔

مستعفی ہونے سے قبل وہ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر بھی رہے اور اس عرصے میں سی این جی اسٹیشن کے پرمٹ جاری کرنے کے علاوہ دیگر معاملات میں ان کے کردار پر مخالفین تنقید کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ رینجرز نے اگست 2015 میں حراست میں لیا تھا۔