سسٹم میں 10 ہزارمیگا واٹ کا اضافہ کرکے آئے ‘لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دار نگراں حکومت ہے۔نوازشریف

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم کی تینوں ریفرنسز پر ایک ساتھ فیصلہ سنانے کی درخواست مسترد کردی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 13:37

سسٹم میں 10 ہزارمیگا واٹ کا اضافہ کرکے آئے ‘لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دار نگراں ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 جون۔2018ء) سابق وزیراعظم نوازشریف نے دعوی کیاہے کہ ہم سسٹم میں 10 ہزارمیگا واٹ کا اضافہ کرکے آئے اب نگراں حکومت لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دارہے۔احتساب عدالت کے باہرسابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے صحافی کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آرکے سوشل میڈیا کے بیان سے متعلق جب سوال پوچھا گیا تو نوازشریف نے کہا کہ اپنا گھرٹھیک ہوتوسب ٹھیک ہوتا ہے، پوری پریس کانفرنس نہیں سنی کہ انہوں نے کیا کہا تھا۔

نوازشریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قانون کوسنگل رکنی بنچ کیسے اٹھا کرباہر پھینک دیتا ہے، نامزدگی فارم میں معلومات پراعتراض نہیں جس پرصحافی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کومعطل کردیا ہے، جس پرنوازشریف نے کہا کہ وہ بعد کی بات ہے۔

(جاری ہے)

ریحام خان کی کتاب سے متعلق نوازشریف نے کہا کہ اورکچھ نہیں ملا تو یہ الزام لگا دیا۔۔نوازشریف نے کہا کہ ہم سسٹم میں 10 ہزارمیگا واٹ کا اضافہ کرکے آئے، ہمارے جانے تک لوڈشیڈنگ نہیں تھی اب اگر بجلی پوری نہیں تو ذمہ دار نگران حکومت ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ عمرے کے لیے جانا چاہتا ہوں لیکن کیس چل رہا ہے، بیوی کی بیمار پرسی کے لیے جانا چاہتا ہوں یہاں سے فرصت ملے گی تو جا سکوں گا ‘ چیئرمین نیب کو بھیجے گئے نوٹس کا جواب نہیں آیا۔۔نواز شریف نے کہا کہ چینل بند کرنا، میڈیا کو دھمکیاں دینا پرانی یادگارہیں، اب اگرحکومت ملی تو قومی کمیشن بنائیں گے اور ضروری اقدامات کریں گے، ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیم بہت ضروری ہیں، بھاشا ڈیم کی زمین خریداری کے لیے سو ارب روپے جاری کیے، ہم نے دیامر بھاشا ڈیم پرکام شروع کرایا۔دوسری جانب احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی تینوں ریفرنسز پر ایک ساتھ فیصلہ سنانے کی درخواست مسترد کردی ہے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی سربراہی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ریفرنس کی سماعت ہوئی، عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے تینوں ریفرنسز پر اکٹھے دلائل دینے اور فیصلہ سنانے کی درخواست مسترد کردی۔

جج احتساب عدالت محمد بشیر نے نواز شریف کے معاون وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے، دلائل سن کر فوری فیصلہ سنادوں گا، اتنے والیم ہیں، ان کو پڑھ کر فیصلہ لکھنا ہے تاہم آپ کوتحریری حکم نامہ آج دے دیں گے جب کہ کل العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیا کو طلب کرلیتے ہیں۔