ویمن یونیورسٹی کے کیمپس آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع میں کھولنے کے بجائے آزاد کشمیر کے تمام گرلز ڈگری کالجز کا الحاق ویمن یونیورسٹی سے کروایا جائے

پیپلز یوتھ آرگنائزیشن ضلع باغ کے مرکزی رہنما ساجد سرورکی صحافیوں سے بات چیت

جمعرات جون 16:14

باغ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) پیپلز یوتھ آرگنائزیشن ضلع باغ کے مرکزی رہنما ساجد سرورنے کہا ہے کہ ویمن یونیورسٹی کے کیمپس آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع میں کھولنے کے بجائے آزاد کشمیر کے تمام گرلز ڈگری کالجز کا الحاق ویمن یونیورسٹی سے کروایا جائے۔صدر ریاست ایک بڑے ویژن کے مالک اور بین الاقوامی شخصیت کے حامل ہیں ان کی شخصیت کو علاقائی اور قبیلائی تعصب کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے وہ کسی علاقے یا برادری کے صدر نہیں بلکہ آزاد کشمیر ریاست کے صدر ہیں ۔

ویمن یونیورسٹی باغ میں ہر معاملے کے پیچھے صدر کا نام لے کر اُن کو بدنا م کیا جا رہا ہے ۔ ویمن یونیورسٹی کے تراڑکھل کیمپس کے حوالے سے بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ صدر سردار مسعود خان ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

ہم صدر ریاست سے گزارش کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے طلباء و طالبات کی سہولت کے لیے کیمپس کھولنے اگر ضروری ہیں ویمن یونیورسٹی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اوراپنے قدموں پر کھڑی نہیں ہوئی ۔

اس کا کیمپس تراڑکھل کھولنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ اگر کیمپس کھولنا ناگزیر ہے تو ہم صدر ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ باغ میں پونچھ، مظفرآباد، مسٹ میرپور کے کیمپس کھولے جائیں کیا یہ آزاد کشمیر کا حصہ نہیں ۔ کیا ہم آپ کی ریاست کے شہری نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ساجد سرور نے کہا کہ دیگر کیمپس باغ میں کھولنے سے باغ کے طلباء و طالبات بھی اپنے گھر کی دہلیز پر تعلیم حاصل کر سکیں ۔

یوں تو یونیورسٹی کا ڈنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ ہم نے اتنے کم عرصے میں یونیورسٹی کو معیار کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے اور حالت یہ ہے کہ یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری یافتہ طالبات این ٹی ایس میں 6سے 7نمبر لے رہی ہیں۔ کیا یہی معیار ہے۔ ہم صدر آزاد کشمیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یونیورسٹی کی تعلیم کو عالمی معیار کا بنانے سے پہلے اس کا کیمپس کسی جگہ نہ قائم کیا جائے ۔

ہاں اگر پونچھ سے لوگو ں کو بھرتی کرنے کے مقاصد کی خاطر یہ اقدام اُٹھایا جا رہا ہے تو وہ تو یہاں پر بھی 85فیصد لوگ پونچھ سے ہی بھرتی ہورہے ہیں ۔ ا نہو ںنے کہا کہ ن لیگ کی حکومت نے دو سال میں جو کام کیے ہیں وہ عوام کے سامنے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں جو کام ہوئے تھے وہ اپنے کھاتے میں ڈال کر عوا م کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ لیکن عوام باشعور ہو چکی ہے سورج کو دیا نہی دکھایا جا سکتا۔ ہاں ایک کام حکومت کا ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے باغ سے تعلیمی پیکچ ختم کروایا ، ترقیاتی بجٹ کے تقریباً نوے کروڑ شفٹ کروائے۔ ایجوکیشن کالج کو ختم کرنے کی سازش تیار کی، اور ویمن یونیورسٹی باغ کے قسطوں میں باغ سے منتقل کرنے کا پلان بنایا۔