ن لیگ کی حسن عسکری کومستردکرنےپرحیرانی ہوئی،پی ٹی آئی

حسن عسکری کوکسی طورپر پی ٹی آئی کا سپورٹرقرارنہیں دیاجاسکتا،ن لیگ کوغیرجانبدارلوگوں پراعتراض ہے۔ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات جون 16:22

ن لیگ کی حسن عسکری کومستردکرنےپرحیرانی ہوئی،پی ٹی آئی
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 جون 2018ء) : تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پرتحفظات رکھنے پرحیرانی ہوئی،حسن عسکری کو کسی طور پر پی ٹی آئی کا سپورٹر قرار نہیں دیا جاسکتا، ان لوگوں کوغیرجانبدارلوگوں پر اعتراض ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کی نامزدگی کو مسترد کرنے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

دوست محمد خان کوخیبرپختونخوا میں ہم نے نامزد نہیں کیا تھا۔ اسی طرح حسن عسکری کو الیکشن کمیشن نے نامزد کیا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ان لوگوں کوغیرجانبدارلوگوں پر اعتراض ہے۔ حسن عسکری کو کسی بھی طرح سے پی ٹی آئی کا سپورٹر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پرتحفظات رکھنے پرحیرانی ہوئی ہے۔

واضح رہے مسلم لیگ ن نے حسن عسکری کی بطورنگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری مسترد کردی ہے،،مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے،،الیکشن کمیشن نے پنجا ب میں الیکشن کمیشن کے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے،حسن عسکری کی موجودگی میں شفاف الیکشن نہیں ہوں گے،بدقسمتی ہے کہ الیکشن کمیشن نے حسن عسکری کا نام نامزد کیا ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں احسن اقبال،، خواجہ سعد رفیق،، خرم دستگیرودیگر رہنماؤں کے ہمراہ الیکشن کمیشن کی نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کی نامزدگی پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دیے گئے نام متنازع تھے۔ہمارے امیدوار جسٹس ر سائر علی اور ایڈمرل ذکاء اللہ غیرجانبدار آدمی ہیں۔حسن عسکری اور ایازمیر کے خیالات آپ ٹی وی پردیکھ سکتے ہیں اور اخبارات میں پڑھ سکتے ہیں۔

نگراں حکومت کا کام کسی کی طرف داری کرنا نہیں ہوتا جو جمہوری عمل کیخلاف ہو۔بدقسمتی ہے کہ الیکشن کمیشن نے حسن عسکری کا نام نامزد کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حسن عسکری کو شام کو ٹی وی پرسنا جاسکتا ہے جو کہ وہ اپنے خیالات مسلم لیگ ن کے حوالے سے رکھتے ہیں۔ان کی تقاریراور آرٹیکل بھی موجود ہیں۔انہوں نے اس موقع پرحسن عسکری کے ن لیگ کے خلاف مضامین بھی پڑھ کرسنائے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے الیکشن کمیشن کو تمام ریکارڈ بھیء بھیجا تھا۔شاہد خاقان نے کہاکہ پنجاب میں نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔۔الیکشن کمیشن نے پنجا ب میں الیکشن کمیشن کے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔حسن عسکری کی موجودگی میں شفاف الیکشن نہیں ہوں گے۔