مسلم لیگ (ن) نے حسن عسکری کی تقرری مسترد کردی

الیکشن کمیشن نے پروفیسر حسن عسکری کی تقرری پر مسلم لیگ (ن) کے اعتراضات مسترد کردیئے نگراں وزیراعلیٰ کا غیرجانبدار ہونا لازمی ہے ، الیکشن کمیشن نے ایک ایسے شخص کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا جو غیرجانبدار نہیں-شاہدخاقان عباسی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات جون 16:32

مسلم لیگ (ن) نے حسن عسکری کی تقرری مسترد کردی
 لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 جون۔2018ء) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے الیکشن کمیشن کی جانب سے حسن عسکری کی تقرری کے فیصلے نے انتخابات کو شبے میں ڈال دیا ہے۔۔لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے راہنماﺅں کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نگراں وزیراعلیٰ کا غیرجانبدار ہونا لازمی ہے ، پنجاب کے لئے ہماری جانب سے دیئے گئے نام معروف ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے ایک ایسے شخص کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا جو غیرجانبدار نہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے نے انتخابات کو شبہ میں ڈال دیا ہے، پاکستان کے عوام ان انتخابات کو رد کریں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ تمام جماعتوں کی قیادت نے کہا ہے کہ الیکشن میں تاخیر برداشت نہیں لیکن 26 اپریل 2018 کو حسن عسکری نے آرٹیکل میں الیکشن میں تاخیر کی بات کی اور کہا گرمی کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہوسکتی ہے، نگراں وزیراعلیِ کا فیصلہ پورے الیکشن کو شبہ میں ڈال دے گا الیکشن ہم نے لڑنا ہے نگران حکومت نے نہیں۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن سے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں، ایسے شخص کو نگران وزیراعلیٰ بنایا جائے جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔

اس سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حسن عسکری جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے، ان سے غیر جانبدار اور میرٹ پر کام کی توقع نہیں کی جاسکتی، بدقسمتی ہے کہ جس شخص نے ایک سکول نہیں چلایا وہ صوبہ چلائے گا۔انہوں نے کہاکہ پروفیسر حسن عسکری کی بطور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب تقرری پر شدید تحفظات ہیں۔انہوں نے مزید کہ کہ حسن عسکری مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کے خلاف باتیں کرتے رہے ہیں۔

رانا ثناءاللہ نے مزید کہا کہ حسن عسکری جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے، انہوں نے ہمیشہ مسلم لیگ ن کی قیادت کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سابق وزیر قانون پنجاب نے مزید کہا کہ پروفیسر حسن عسکری سے غیر جانبدار اور میرٹ پر کام کی توقع نہیں کی جاسکتی۔۔رانا ثناءاللہ نے یہ بھی کہا کہ حسن عسکری کی تقرری پر تحریری طورپر تحفظات سے آگاہ کردیا ہے، ان کے اقدامات کو چیلنج کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پروفیسر حسن عسکری کی بطور نگران وزیراعلی پنجاب تقرری پر مسلم لیگ (ن) کے اعتراضات مسترد کردیئے ہیں۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے نون لیگ کے ردعمل پر کہا ہے کہ الیکشن کمیشن بغیر دباﺅ کے کام کرتا ہے، آرٹیکل 224 اے کے تحت پروفیسر حسن عسکری کو نگراں وزیراعلی پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا، کمیشن نے تینوں صوبوں پنجاب،، بلوچستان اور خیبرپختون خوا کے وزرائے اعلی متفقہ طور پر مقرر کئے۔

الیکشن کمیشن حکام نے نون لیگ کا حسن عسکری کے نام پر نظرثانی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کسی کے ایما اور خواہش پر نہیں بلکہ میرٹ پر فیصلے کرتا ہے، الیکشن کمیشن پر بے جا تنقید کسی صورت مناسب نہیں، سیاسی جماعتیں فیصلہ کرنے میں ناکام ہوئیں تو ہی الیکشن کمیشن نے آئین کے تحت فیصلہ کیا۔