آزادکشمیر قانون سازاسمبلی کے 49ممبران میں صرف ایک شخص نے عوامی حقوق پر آواز بلند کی باقی سب ذاتی مفادات کی خاطر سیاست کرتے ہیں‘ بڑا شور سنتے تھے فاروق حیدر کے میرٹ کا وہ بھی دیکھ لیا ہے‘یہ سب چور اور ڈاکو ہیں

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سیاسی شعبے کے سربراہ سردار قدیر خان کی بات چیت

پیر جون 16:15

راولاکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سیاسی شعبے کے سربراہ سردار قدیر خان نے کہا کہ آزادکشمیر قانون سازاسمبلی کے 49ممبران میں صرف ایک شخص نے عوامی حقوق پر آواز بلند کی باقی سب ذاتی مفادات کی خاطر سیاست کرتے ہیں ، بڑا شور سنتے تھے فاروق حیدر کے میرٹ کا وہ بھی دیکھ لیا ہے، یہ سب چور اور ڈاکو ہیں انہوں نے کہا کہ جموںکشمیر لبریشن فرنٹ اس سارے فرسودہ نظا م کے خلاف ہے اور اسی لئے اس کا حصہ نہیں ہے، ہماری باتوں کو وطن دشمن قرار دیا جاتا ہے لیکن اسمبلی ممبر نے سچ بول کر سب کو بے نقاب کردیا ہم سیاسی اختلافات کے باوجود حق کی آواز کے ساتھ کھڑے ہیں چپراسی کا میرٹ ہوتا ہے لیکن اعلیٰ عدلیہ میں میرٹ اور ٹیسٹ انٹرویو کا ناہونا افسوسناک ہے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج رشوت اور سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہوں وہاں انصاف کیاہوگا ابراہیم ضیاء سارے فیصلے لطیف اکبر کی سفارش پر کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ جج بھرتی ہوا اور 15لاکھ تنخواہ لیتا ہے انہوں نے کہا کہ جو لوگ عدالت عالیہ نے تجویز کیے ان میں سے ایک بھی جج نہیں لگا، چیف جسٹس سے دباؤ کے تحت ججوں کا حلف لیا گیا ،انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کو پروموٹ کیا جائے سینئر ڈسٹرکٹ ججوں کو چھو ڑ کر سفارشی کو بھرتی کیا گیا ، سردار قدیر خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ اعلیٰ عدلیہ میں ہونے والی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی لیکن جج اور وکلاء مفاد کیلئے اکٹھے ہوجاتے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ سب ججوں کو برطر ف کرکے ڈسٹرکٹ ججوں کو ترقیا ب کیا جائے، امیر اللہ مغل ،لیاقت شاہین، سمیت درجنوں سینئر تجربہ کار جج جو میرٹ پر بھرتی ہوکر ترقیاب ہوئے ان ہی لوگوں کو اعلیٰ عدلیہ میں ترقیاب کیا جائے ، بصورت دیگر جموںکشمیر لبریشن فرنٹ بھی ان کو بے نقاب کرتارہے گا۔