این اے 53 سے کپتان اِن یا آؤٹ آر او کو آج مکمل ریکارڈ پیش کرنیکا حکم

عمران خان کیخلاف آر او کا فیصلہ انصاف کے برعکس اور غیر منصفانہ ہے،فیصلہ کالعدم قرار دیا جا ئے ، با بر اعوان

جمعرات جون 21:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) اسلام آباد کے اپیلیٹ ٹربیونل نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کیخلاف درخواست پر این اے 53 کے ریٹرننگ افسر کو مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیٹ ٹربیونل جسٹس محسن اخترکیانی نے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے دلائل میں موقف اپنایا کہ عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین ہیں، وہ عوام کے بنیادوں حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، انہوں نے این اے 53 سے انتخابات لڑنے کیلئے کاغذات جمع کرائے، 19 جون کو جانچ پڑتال کے بعد عمران خان کے کاغذات نامزدگی کمزوربنیاد پرمسترد کئے گئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے عمران خان کو کیوں نااہل قرار دیا جس پر بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کیخلاف آر او کا فیصلہ انصاف کے برعکس اور غیر منصفانہ ہے، کاغذات نامزدگی میں درخواست گزار نے حقائق چھپائے نہ غلط بیانی کی، استدعا ہے کہ ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیکر کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں۔

(جاری ہے)

اپلیٹ ٹریبیونل نے ریٹرننگ افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آ ج جمعہ تک مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، عمران خان کی درخواست سماعت آج دوبارہ ہوگی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے بابر اعوان نے کہا کہ آر او کا فیصلہ انصاف کے برعکس اور غیر منصفانہ ہے، عمران خان این اے 53 سے ایم این اے اور وزیراعظم بھی بنیں گے۔وکیل بابر اعوان نے کہا الیکشن ایکٹ میں لکھا ہے آر او تکنیکی غلطیوں کو دور کرے، عمران خان عوام کے بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا عمران خان نے این اے 53 سے کاغذات جمع کرائے، کاغذات نامزدگی کمزور بنیاد پر مسترد کیے گئے، میانوالی میں بھی اپیل دائر کریں گے۔بابر اعوان نے مزید کہا ملک کا صدر گورنر ہاؤس میں پوتی کی شادی کرا رہا ہے، سندھ کا گورنر سیاست کر رہا ہے، خیبرپختونخوا کا گورنر ن لیگ کا جنرل سیکریٹری رہا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سارے صوبوں کے گورنرز کو ہٹایا جائے۔