کراچی: شاہ لطیف ٹاؤن پولیس کی نا اہلی،

بچے کے اغوا کے بعد قتل کا معاملہ ایف آئی آر میں تاوان کی وصولی کا زکر ہونے کے باوجود پولیس نے خاتون کا اغوا زیادتی کے غرض سے ظاہر کیا

جمعہ جون 17:09

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) کراچی میں شاہ لطیف ٹان پولیس کی نا اہلی کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا ہے ، بچے کے اغوا کے بعد قتل کا معاملہ پولیس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہ گئی۔واقعے کے کئی روز بعد پولیس نے واردات میں ملوث ملزم شبیر کو گرفتار کر لیا ہے، چار سالہ ارسلان کو تین جون کو ماں کے ساتھ سابقہ پڑوسی نے اغوا کیا تھا، واردات کے بعد ایزی پیسہ کے ذریعے رقم بھی وصول کی گئی۔

پولیس نے آٹھ روز بعد مقدمہ اپنی مرضی کے تحت مقدمہ درج کر لیا، ایف آئی آر میں تاوان کی وصولی کا زکر ہونے کے باوجود پولیس نے خاتون کا اغوا زیادتی کے غرض سے ظاہر کیا۔ پولیس نے ایف آئی آر میں اغوا برائے تاوان کی دفعہ بھی شامل نہیں کی۔ملزم شبیر نے مغوی ماں اور بیٹے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے چار سالہ ارسلان جاں بحق ہوگیا۔

(جاری ہے)

ملزم نے بچے کے قتل کے بعد ماں کو کمسن بیٹے کی لاش کے ہمراہ سپر ہائی وے پر چھڑوادیا۔مقتول ارسلان کے پوسٹ مارٹم میں لرزہ خیز انکشاف ہوا ہے۔ میڈیکو لیگل ذرائع کے مطابق مقتول ارسلان کو کئی روز تک پیاسا رکھا گیا ہوگا جس سے بچے کے جسم کا پانی خشک ہوچکا تھا۔ ارسلان کو گلا گھونٹ کر قاتل کیا گیا، بچے کو شدید تشدد بھی کیا گیا ہے۔ مقتول کو بدفعلی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔واقعے کے بعد آئی جی سندھ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد پولیس کو ہوش آیا۔ محکمہ پولیس کی نااہلی چھپانے کے لیے ملزم شبیر کی گرفتاری پریس کانفرنس کے ذریعے ظاہر کی جائے گی۔