نگران حکومت نے ملک بھر کی طرح اسلام آباد میں بھی الیکشن کمیشن کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے منظور نظر ڈی آئی جی آپریشن کی سیٹ پر براجمان آفسر سمیت آٹھ اہم عہدوں پر تعینات افسران کو تاحال تبدیل نہیں کیا جا سکا الیکشن کمیشن کے احکامات کی روشنی میں چیف کمشنر اسلام آباد کو پولیس کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹ میں اسلام آباد کے حلقہ این اے 54 کو نظر انداز کردیا گیا،صدر زون کے کسی پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار نہیں دیا گیا، ذرائع

ہفتہ جون 20:45

نگران حکومت نے ملک بھر کی طرح اسلام آباد میں بھی الیکشن کمیشن کے احکامات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) نگران حکومت نے ملک بھر کی طرح اسلام آباد کے تین حلقوں میں بھی شفاف الیکشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا ہے‘ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے منظور نظر ڈی آئی جی آپریشن کی سیٹ پر براجمان آفسر سمیت آٹھ اہم عہدوں پر تعینات افسران کو تاحال تبدیل نہیں کیا جا سکا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے احکامات کی روشنی میں چیف کمشنر اسلام آباد کو پولیس کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹ میں اسلام آباد کے حلقہ این اے 54 کو نظر انداز کردیا گیا ہے یعنی پولیس رپورٹ میں صدر زون کے کسی پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار نہیں دیا گیا آن لائن کو حاصل ہونے والی رپورٹ کے مطابق سٹی زون کے اٹھارہ جبکہ رورل زون کے 26 اور انڈسٹریل ایریا کے دو پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے پولیس رپورٹ میں اسلام آباد انتظامیہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اسلام آباد پولیس کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آباد کو بھجوائی گئی رپورٹ میں حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے حساس ترین پولنگ اسٹیشن کا ملبہ چند خاندانوں پر ڈالے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔۔پولیس رپورٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 52میں چوہدری برادری ،کھوکھر برادری ،ملک برادری اور نمبر دار برادری کی رنجش سے حالات کشیدہ ہونے کے خدشات اپنی جگہ لیکن بعض پولنگ اسٹیشن میں کم تعلیم یافتہ لوگوں کی وجہ سے بھی لڑائی جھگڑا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا پولیس رپورٹ میں حساس پولنگ اسٹیشنز میں رورل زون کے 26 سٹی زون کے اٹھارہ جبکہ انڈسٹریل ایریا کے دو پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے انتظامیہ کو بھیجو آئی گئی رپورٹ بد نیتی پر مبنی ہے رپورٹ میں صدر زون یعنی این اے 54کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔خاندانی رنجشیں اپنی جگہ لیکن شرپسندوں اور جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ کی شرح کو دیکھا جائیں رورل زون کے بعد صدر زون حساس زون ہے اس زون میں پولیس اسٹیشن گولڑہ ،ترنول ،شالیمار ،،کراچی کمپنی رمنا ،مارگلہ شامل ہیں۔

اسلام آباد کے مذکورہ بالا حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر ایم این اے منتخب ہوئے تھے اور اس حلقے میں مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے انجم عقیل خان کے حامیوں کی جانب سے حالات کشیدہ کرنے کے خدشات مسلم موجود ہے لیکن پولیس رپورٹ نے این اے 54کے سیکورٹی انتظامیہ کا پول کھل گیا ہے دوسری جانب این اے 52کے چالیس پولنگ اسٹیشن کا بھی ذکر کیا گیا ہے لیکن این اے 54کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

این اے 52کے حساس ترین پولنگ اسٹیشن جن میں تھانہ کورال کے علاقے میں 18 ، تھانہ نیلور کی حدود میں3، تھانہ آئی نائن کی حدود میں 4 ، تھانہ شہزاد ٹاؤن میں 2، تھانہ سہالہ کے علاقے میں 2، اسی طرح سٹی زون یعنی این اے 53میں تھانہ بنی گالہ کی حدود میں 2، بھارہ کہو میں 3 ، تھانہ آبپارہ میں 2 اور تھانہ کو ہسار کی حدود میں 11 پولنگ اسٹیشنز حساس قرار دئیے گئے ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ان پولنگ اسٹیشنز پر حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی اندیشہ ہے۔جبکہ این اے 53یعنی سٹی زون کے اٹھارہ پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے الیکشن کمیشن کے حکم پر ملک میں انتظامیہ اور پولیس کے افسران کی تقرریاں اور تبادلے کئے گئے لیکن اسلام آباد کی بیورو کریسی خاص طور پر پولیس کے آٹھ اہم عہدوں جن میں چاروں زون بشمول سی آئی اے کے کسی ایس پی کو تبدیل نہیں کیا گیا اسی طرح انتظامیہ مین بھی افسران کئی سالوں سے عہدوں پر چپکے ہوئے ہیں ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ نواز کے دور اقتدار میں سیاسی بنیادوں پر تعینات افسران نے تبادلے رکوانے کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردی ہے۔