چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا لاپتہ افراد سے متعلق جمع تمام درخواستوں پر کارروائی کا حکم

اتوار جون 21:30

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ رجسٹری میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی جانب سے جمع کرائی جانے والی تمام درخواستوں پر کارروائی کا حکم دیا ہے۔۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ امجد جاوید اور حساس اداروں کے افسران پیش ہوئے۔ اتوار کو سماعت کے دوران کئی لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ گئے، اس موقع پر ان کی جانب سے درخواستیں دی گئیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے آئی جی سندھ و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے مکالمے کے دوران کہا کہ لاپتہ افراد پر مجھے بڑا افسوس ہو رہا ہے، جوان نہیں57 سالہ شخص بھی لاپتہ ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے بھی کہہ چکا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں، اگر ان کے پیاروں کے ساتھ حادثہ ہو چکا تو وہ بھی بتا دیں تاکہ کم ازکم ان کے پیاروں کو صبر تو آسکے۔

پچاس سے زائد لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے کمرہ عدالت میں آہ و بکا کی جس کے شور شرابہ ہونے پر خاتون اہلکار نے لاپتہ شہری کی رشتہ دار کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنے کی کوشش کی جس پر لیڈی پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے رویے پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور اپنی نشست سے اٹھ کر چلے گئے، تھوڑی دیر وقفے کے بعد چیف جسٹس دوبارہ کمرہ عدالت میں آئے اور کہا کہ آپ لوگوں نے عدالت کا تقدس پامال کیا، میرا کہنا بھی آپ لوگ نہیں مانے اور شور شرابا کرتے رہے۔

ایک خاتون کی جانب سے ڈائس پر مکہ مارنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ڈائس پر آپ گھونسے مار رہی ہیں، چیف جسٹس کے ڈائس پر مکے مارے گئے، آپ کی ہمت کیسے ہوئی۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ لوگوں نے پولیس اہلکار پر ہاتھ کیسے اٹھایا، میں آپ لوگوں کے لیے نکلا مگر آپ لوگوں نے توہین عدالت کی، مجھے قوم کی بیٹیوں سے اس بدتہذیبی کی توقع نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بیٹی ہیں اس لیے معاف کررہا ہوں ورنہ جیل بھیج دیتا جس پر ڈائس پر ہاتھ مارنے والی خاتون نے غیر مشروط معافی مانگ لی۔۔چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی جانب سے جمع کرائی جانے والی تمام درخواستوں پر کارروائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لاپتہ افراد کے لئے خصوصی سیل قائم کرنے کا حکم دے دیا۔