نواز شریف کی پراپرٹی یو اے ای اور سوئٹزر لینڈ میں بھی ہے‘

اینٹ اٹھائو تو مریم نواز کی پراپرٹی نکل آتی ہے، فواد چوہدری

پیر جون 16:10

نواز شریف کی پراپرٹی یو اے ای اور سوئٹزر لینڈ میں بھی ہے‘
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) ترجمان پاکستان تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نواز شریف کی پراپرٹی یو اے ای اور سوئٹزر لینڈ میں بھی ہے‘ اینٹ اٹھائو تو مریم نواز کی پراپرٹی نکل آتی ہے‘ نواز شریف اور ان کا خاندان واضح کرپشن کی داستان ہیں‘ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کلثوم نواز کی صحت کے لئے دعا گو ہیں‘ اسحاق ڈار کو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے جہاز کے ذریعے باہر بھیجا‘ بے شرمی کی تصویر دیکھنی ہو تو اس کی مثال اسحاق ڈار ہیںِ اسحاق ڈار کے اوپر چھ ہزار کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

پیر کو فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس کو تحقیقات میں شامل نہ کرنا کہ وہ چیف جسٹس ہیں یہ انصاف کے منہ پر طمانچہ ہوگا۔

(جاری ہے)

موجودہ چیئرمین نیب نے متاثرین سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں انصاف ملے گا۔ افتخار چوہدری کو کون گرفتاری سے بچا رہا ہے کرپشن کے لئے تمام اداروں پر نظر رکھنی ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف ایڈن ہائوسنگ سوسائٹی کے ساتھ کھڑی ہے پاکستان تحریک انصاف نیب سے مطالبہ کرتی ہے کہ چوہدری افتخار اور ان کے بیٹے کے خلاف کارروائی کی جائے میرا مطالبہ ثاقب نثار سے بھی ہے کہ وہ اس معاملے پر نظر ڈالیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کرپشن کے خاتمے کے معاملے پر بہت اہم کردار ادا کیا نواز شریف اور افتخار چوہدری پارٹنر ہیں۔ مریم نواز شریف لندن میں جا بیٹھی ہیں اینٹ اٹھائو مریم نواز کی پراپرٹی نکل آتی ہے۔ نواز شریف کی پراپرٹی یو اے ای‘ سوئٹزر لینڈ میں بھی ہے نواز شریف اور ان کا خاندان واضح کرپشن کی داستان ہیں۔ ان کی پراپرٹی اور کارنامے سامنے آنے چاہئیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کلثوم نوز کی صحت کے لئے دعا گو ہیں۔

نواز شریف اور مریم نواز اپنے اثاثوں کا جواب دیں۔ لوگوں کو ان کی حقیقت معلوم ہوگئی ہے بے شرمی کی اگر تصویر دیکھنی ہو تو اس کی مثال اسحاق ڈار ہیں۔ اسحاق ڈار کو سابقہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے جہاز کے ذریعے باہر بھیجا۔ اسحاق ڈار کے اوپر چھ ہزار کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے یہ پاکستان کی عدالتوں پر ایک طمانچہ ہے۔ پاکستان پینل کورٹ میں مجرم کو فرار کرانے والے کی سخت سزا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو اور ان کے ہمراہ بیوروکریٹس کو اس معاملے پر طلب کیا جانا چاہئے نگران حکومت نے بیوروکریسی کے معاملات پر ہوم ورک نہیں کیا۔