شمالی وزیرستان سے رکن پارلیمنٹ اورقبائلی عمائدین کی رواں سال فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات نہ کرانے پر بائیکاٹ اور پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنے کی دھمکی دیدی

منگل جون 20:55

بنوں(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) شمالی وزیرستان قومی اسمبلی کے اُمیدوار اورقبائلی عمائدین نے اسی سال فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات نہ کرانے پر بائیکاٹ اور پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنا دینے کی دھمکی دیدی شمالی وزیرستان حلقہ پی کے 48 کے آزاد اُمیدوار حاجی محمد اقبال خان وزیر نے مشران کے ہمراہ بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فاٹا میں ایف سی آر کے قانون کے خاتمے اورفاٹاکے خیبرپختونخواہ سے انضمام کے بعد صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات نہ کرانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں ایک سال بعد صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات سے یہاں کے منتخب نمائندوں صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حصہ لینے سے محروم کرنے کے مترادف ہے صوبے میں انضمام کے بعد یہاں کے عوام کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح برابر کے حقوق حاصل ہوجاتے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ یہاں کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ہم نے اس ظلم و زیادتی کے خلاف رمضان المبارک کے مہینے میں اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے دیئے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست دائر کی جنہیں خارج کردیا گیا ہے اس سے پہلے شمالی وزیرستان کو قومی اسمبلی کی دو نشستیں نہ دیکر زیادتی کی گئی اور اب صوبائی سمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑنے کی اجازت نہ دیکر ہمارے منتخب نمائندوں کو صوبائی حکومت کی تشکیل میں حق رائے دہی کے استعمال سے روکنے کی سازش کی گئی حالانکہ ایسا کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کے پاس کوئی جواز بھی نہیں ہے خیبرپختونخواہ میں شامل قبائلی عوام کے ساتھ امتیازی سلوک فوراً بند کیا جائے سپریم کورٹ آف پاکستان ، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگران حکومت اس اہم مسئلے پر غور کریں اور 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں ہمارے علاقوں میں بھی صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات کرائیں بصورت دیگر ان علاقوں میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات کا بھی بائیکاٹ کریں گے اور پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں بھی تاریخی دھرنا دیں گے ۔