پن بجلی یا دیگر قابل تجدید ذرائع سے سستی بجلی پیدا کرنے پر توجہ دینا ہو۱ گی۔صدر فیصل آباد چیمبر آ ف کا مر س

جمعرات جولائی 23:25

پن بجلی یا دیگر قابل تجدید ذرائع سے سستی بجلی پیدا کرنے پر توجہ دینا ..
فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) پاکستان میں زیادہ تر بجلی تھرمل پاور پلانٹس سے پیدا کی جا رہی ہے جو تیل پر چلتے ہیں۔ چونکہ تیل درآمد کرنا پڑتا ہے اس لئے ہمارا کرنٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 15.96 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اسے کم کرنے کیلئے ہمیں پن بجلی یا دیگر قابل تجدید ذرائع سے سستی بجلی پیدا کرنے پر توجہ دینا ہو گی، وافر مقدارمیں سستی، ماحول دوست اور قابل تجدید بجلی پائیدار صنعتی ترقی کیلئے ناگزیر ہے تاہم مستقبل کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس کی بچت پر بھی ضروری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے توانائی کی بچت اور ایفی شینسی بارے صنعتی اور ٹیکنیکل ماہرین کیلئے یونائٹیڈ نیشنز انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (یونیڈو) کے زیر اہتمام منعقدہ تین روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ صنعتی ترقی کیلئے توانائی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں بجلی کی فی کس دستیابی انڈیا اور بنگلہ دیش سے بھی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے ملکی شرح نمو میں دو فیصد کمی ہوئی تھی تاہم اگرچہ اب صنعتوں کو ان کی طلب کے مطابق بجلی مل رہی ہے لیکن بجلی کے ترسیلی اور تقسیمی نظام کی خرابیوں کی وجہ سے صنعتی پیداوار پر بدستور منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جبکہ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے روزگار کے مواقعے بھی کم ہوئے ہیں اور برآمدات میں بھی بتدریج کمی ریکارڈ کی گئی۔

شبیر حسین چاولہ نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت جہاں مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کرنے کی ضرورت ہو گی وہاں توانائی کی بچت کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ دو میگاواٹ پیدا کرنے سے یہ زیادہ اہم ہے کہ ہم ایک میگا واٹ کی بچت کریں۔ انہوں نے برآمدات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ برآمدی مال کی تیاری کیلئے سستی بجلی پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ ہم عالمی منڈیوں میں مسابقت کی پوزیشن میں آسکیں۔

۔ پن بجلی کے حوالے سے شبیر حسین چاولہ نے کہا کہ انہوں نے تین ماہ قبل ایک منظم مہم شروع کی تھی جس کے تحت وزیر اعظم ، وزرائے اعلیٰ اور چیف جسٹس کو خط لکھے گئے جن میں کثیر المقاصد ڈیموں کی فوری تعمیر شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام اہم اور بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے انتخابی منشور میں ڈیموں کی تعمیر بارے واضح پالیسی اختیار کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بجلی کی قلت کی ایک بڑی وجہ بجلی کا غیر ضروری اور بلاوجہ استعمال بھی ہے تاہم بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مسابقت نے پاکستان کو بھی اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ سستی بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس کی بچت کیلئے بھی ضروری اقدامات اٹھائے تاکہ برآمدات کیلئے سستی مصنوعات تیار کی جا سکیں۔ شبیر حسین چاولہ نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر ہم بجلی کے استعمال میں احتیاط کریں تو اس سے کم از کم 17 فیصد بجلی کی بچت کی جا سکتی ہے تاہم اس کیلئے ضروری اور فوری اقدامات اٹھانے ہو ں گے۔

انہوں نے یونیڈو کی طرف سے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں اس ورکشاپ کے انعقاد کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس سے مختلف صنعتی اداروں میں کام کرنے والے متعلقہ ماہرین کے علم اور صلاحیتوں میں نہ صرف اضافہ ہو گا بلکہ اس کے نتیجہ میں ان صنعتوں اور پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا ۔اس سے قبل یونیڈو کے نیشنل ایکسپرٹ علی قریشی نے بتایا کہ یونیڈو کے تحت اب تک چار سو سے زائد ماہرین کو بجلی کی بچت کے حوالے سے تربیت دی جا چکی ہے۔

انہوں نے یونیڈو اور گلوبل انوائرمنٹ فیسلٹی کی طرف سے پاکستان میں بجلی کی بچت کیلئے شروع کئے جانے والے جاری اور مستقبل کے پروگراموں پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یونیڈو کے ڈائریکٹر جنرل اسی ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے جس کے دوران پاکستان میں شروع کئے جانے والے منصوبوں بارے معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیڈو پاکستان میں پانچ شعبوں کیلئے ہنر مند افرادی قوت کیلئے تربیتی پروگرام شروع کر رہا ہے جبکہ ان شعبوں میں ٹیکسٹائل، فونڈری، ڈیری ،پیپر اینڈ پلپ اور سرامکس کے شعبے شامل ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 30 ملین ڈالر کی لاگت سے نو منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ 15 پائپ لائن میںہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیڈو نے نسٹ میں ایک ٹریننگ سنٹر بھی قائم کیا ہے جو سرٹیفائیڈ انرجی آڈیٹرز اور انرجی مینجمنٹ پروفیشنل تیار کر رہا ہے ۔ اس سے قبل ورکشاپ کے شرکا ء کو یونیڈو اور اس کے ذریعے شروع کئے گئے مختلف پروگراموں بارے ویڈیو بھی دکھائی گئی