الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے

عمران خان کے دو حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن روکدئیے گئے ، تین کا مشروط نوٹیفکیشن جاری سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی کامیابی کانوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کے فیصلے سے مشروط این اے 53 سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اور 131 میں سعد رفیق کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست کا فیصلہ آنے تک روکا گیا ہے،ترجمان الیکشن کمیشن

منگل اگست 22:04

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اگست2018ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے دو حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن روک دیے گئے جبکہ تین حلقوں کا مشروط نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن حکام کے مطابق عام انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کر دیئے گئے ہیں اور جن حلقوں میں عدالت کی جانب سے حکم امتناع ہے ان حلقوں کے نتائج روک دیئے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن حکام کا مزید کہنا تھاکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے دو حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن بھی رو ک دیا گیا ہے جبکہ دیگر تین حلقو ں کو مشروط قرار دے دیا گیا ہے ۔

(جاری ہے)

عمران خان کے پانچ حلقوں میں این ای35، این ای53 ،این اے 243 ،این اے 95اوراین ای131شامل ہیں ۔اس کے علاوہ سابق وزیراعلی خیبرپختون خواپرویز خٹک کا بھی این اے 25 نوشہرہ سے کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا گیاہے ۔

پرویز خٹک کی کامیابی کانوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کے فیصلے سے مشروط ہے ۔الیکشن کمیشن کے مطابق عدالتوں کی جانب روکے گئے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیے گئے۔ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ این اے 53 سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر روکا گیا ۔ این اے 131 میں مسلم لیگ (ن)کے سعد رفیق کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست کا فیصلہ آنے تک روکا گیا ہے۔

عمران خان کی تین حلقوں سے کامیابی کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں۔ترجمان کے مطابق عدالتی فیصلوں کے باعث جن حلقوں میں دیگر امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روکے گئے ان میں این اے 23، این اے 90 ، این اے 91 ، این اے 106، این اے 108، این اے 112، این اے 140،این اے 215،این اے 230،این اے 239 بھی شامل ہیں۔ ان حلقوں میں خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ کی کامیابی کے نوٹیفکیشن بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کے 32 حلقوں کے نتائج روکنے کا فیصلہ کر لیا گیا، نتائج روکے جانیوالوں میں 15 قومی اور 17 صوبائی حلقے شامل ہیں۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق 4 اگست تک انتخابی اخراجات کی تفصیلات موصول ہونے کے بعد امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔ کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کے بعد آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ بننا ہوگا۔

8 اگست کو سیاسی جماعتوں کی ترجیحی فہرستوں کے مطابق خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔شیڈول کے مطابق 9 اگست تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے جائیں گے۔بعدازاں صدر پاکستان قومی اور چاروں صوبوں کے گورنر صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس طلب کریں گے۔پہلے اجلاس میں منتخب اراکین خود حلف اٹھانیکے علاوہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ ایوان کا چنا ئوبھی کریں گے۔