حنیف عباسی کی سپرنٹنڈنٹ آفس میں موجودگی کا معاملہ، انکوائری رپورٹ مسترد ،

جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت 5 اہلکار معطل معطل ہونے والوں میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ فرخ رشید، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ساجد علی، ہیڈ وارڈر ارشاد اور وارڈر امتیاز شامل

منگل ستمبر 22:38

حنیف عباسی کی سپرنٹنڈنٹ آفس میں موجودگی کا معاملہ، انکوائری رپورٹ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) پنجاب حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی رہائی کے موقع پر حنیف عباسی کی جیل سپرنٹنڈنٹ آفس میں موجودگی کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی۔انکوائری کمیٹی میں ڈی آئی جی جیل ملتان ملک شوکت اور اسسٹنٹ آئی جی جوڈیشل ملک صفدر شامل تھے جس نے اپنی رپورٹ میں سپرنٹنڈنٹ جیل سعید اللہ گوندل کو بری الذمہ قرار دیا گیا تھا۔

انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل و دیگر اہلکاروں کوذمہ دار قرار دیکر کارروائی کی سفارش کی گئی تھی تاہم وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے انکوائری رپورٹ مسترد کردی۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب نے سپرنٹنڈنٹ جیل سعید اللہ گوندل کو عہدے سے ہٹانے کی بھی منظوری دے دی ہے جبکہ ڈی آئی جی جیل راولپنڈی کے خلاف انکوائری کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سعید اللہ گوندل سمیت جیل کے 5 اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ فرخ رشید، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ساجد علی، ہیڈ وارڈر ارشاد اور وارڈر امتیاز کو بھی معطل کردیا گیا ہے جبکہ صوبائی وزارت داخلہ کی جانب سے جیل اہلکاروں کی معطلی کانوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق اڈیالہ جیل اہلکاروں کو فرائض سے غفلت پر معطل کیا گیا۔

واضح رہے کہ 19 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا معطل کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔اسی دن سابق وزیراعظم کی رہائی کے موقع پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے آفس سے میاں نواز شریف، ان کے بھائی شہباز شریف اور حنیف عباسی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس پر یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ سزا یافتہ ہونے کے باوجود حنیف عباسی جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں کیوں موجود تھے۔

معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے اس کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات ملک شوکت فیروز اور اے آئی جی جوڈیشل پنجاب ملک سرفراز نواز پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔بعد ازاں انکوائری کمیٹی کی تجویز پر حنیف عباسی کو اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔لیگی رہنما حنیف عباسی کو 21 جولائی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد وہ اڈیالہ جیل میں قید تھے، تاہم اب انہیں اٹک جیل منتقل کردیا گیا ہے، جس کی جیل حکام کی جانب سے بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔