سابق صدر پرویز مشرف کی دبئی میں 4.5 ملین سے زائد کی جائیداد

سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں جائیدادوں کی تفصیل سامنے آ گئی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ ستمبر 12:55

سابق صدر پرویز مشرف کی دبئی میں 4.5 ملین سے زائد کی جائیداد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 ستمبر 2018ء) : سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی دبئی میں 5 ملین سے زائد کی جائیداد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی پاکستان میں کوئی غیر منقولہ جائیداد نہیں ہے۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جائیداد سے متعلق گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں بتایا گیا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی پاکستان میں کوئی غیرمنقولہ جائیداد نہیں ہے۔

یہ بیان حلفی سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ نے عدالت میں جمع کروایا جس میں بتایا گیا کہ دبئی میں پرویز مشرف کے نام 4.5 ملین درہم کا فلیٹ اور23 لاکھ درہم کی مرسڈیز بینز گاڑی ہے ۔ پاکستان میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی ایک کروڑ 30 لاکھ مالیت کی گاڑیاں ہیں ۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ 2 لاکھ 80 ہزار درہم کی 2008ء ماڈل کی دوجیپ بھی ان کے نام ہیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان حلفی کے مطابق سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے پاکستان میں پنشن اور دیگر8 بینک اکاؤنٹس ہیں جن میں سے 2 فارن کرنسی اکاؤنٹ ہیں جن میں 591 ڈالر موجود ہیں۔ چار بنک اکاؤنٹس اہلیہ کے ساتھ جوائنٹ ہیں جن میں ایک کروڑ سے زائد کی رقم موجود ہے ۔ ہائیڈ پارک لندن میں گھر،4 کروڑ 36 لاکھ روپے مالیت کا چک شہزاد فارم ہاؤس اورزمزمہ سٹریٹ کراچی ڈی ایچ اے میں کروڑوں روپیہ کے تین پلاٹ اہلیہ صہبا مشرف کے نام ہیں۔

پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدر کی تمام جائیدادیں ضبط کر دی گئی ہیں وہ عارضی طور پر دبئی میں ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں این آر او کیس کی سماعت ہوئی۔ پرویز مشرف کے وکیل نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف کے آنے اور جانے پر پابندی نہ لگائی جائے تو وہ واپس آ سکتے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس دن پرویز مشرف نے آنا ہوگا ان کا فارم ہاؤس کھول کر صاف بھی کروا دیں گے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویزمشرف کو وطن واپسی کے لیے جو یقین دہانیاں چاہئیں وہ دیں گے اور سب سے بڑے اسپتال میں علاج بھی کرایا جائے گا۔سابق صدر کی وطن واپسی پر ڈی جی رینجرز انہیں سیکیورٹی فراہم کریں گے اور اگر چاہیں تو پورا بریگیڈ پرویز مشرف کی سیکیورٹی کے لئے لگوا دیں گے۔چیف جسٹس کے ریمارکس کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل نے واپسی سے متعلق فیصلہ کے لئے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چلیں وہ بھی دے دیتے ہیں۔ عدالت نے وکیل کی استدعا پر مشرف کی حد تک کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔