ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی ،ْمراد سعید

جمعرات نومبر 22:20

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی ،ْمراد سعید
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) وزیر مملکت برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے واضح کیا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، موٹروے اور قومی شاہرات پر سفر کرنے والوں کو ڈرائیونگ کی بہترین تربیت اور قوانین سے آگاہی اور سڑک کے استعمال سے متعلق شعور دیا جائیگا، روڈ سیفٹی کا مضمون نصاب کا حصہ بنایا جائے گا، ڈرائیونگ کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے عادی مرتکب ڈرائیوروں کے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کر دیئے جائیں گے۔

وہ جمعرات کو موٹروے اینڈ ہائی ویز پولیس کے زیر اہتمام روڈ سیفٹی پالیسی کے اجراء کے حوالہ سے ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ مراد سعید نے کہا کہ نیشنل ٹرانپسورٹ ریسرچ سنٹر (این ٹی آر سی) کو سفری سہولیات اور شاہرات کی بہتری کیلئے اہداف دیئے گئے ہیں جنہیں وہ جلد مکمل کریگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ این ٹی آر سی ہر سال گاڑیوں کی کم از کم ایک مرتبہ ویریفیکیشن یقینی بنائے گا، روڈ سیفٹی پالیس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے یہ پالیسی ڈرائیور، گاڑی اور سڑک کے گرد گھومتی ہے، پالیسی کے تحت ایک ایکشن پلان بنایا جائے گا جس میں صوبوں کو شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سابقہ ادوار میں حکومتوں نے پالیسی سازی پر کوئی توجہ نہیں دی اور عوام نے بھی اس کو سنجیدہ نہیں لیا، پورے ملک میں ڈرائیونگ لائسنسوں کے مراکز قائم کئے جائیں گے جہاں سے ڈرائیوروں کو بہترین ڈرائیونگ سہولت اور تربیت فراہم ہو گی، جو لوگ موٹروے اور قومی شاہراہ پر آئیں گے انہیں ٹریفک قوانین کی پابندی ہر صورت کرنا ہو گی، خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی چھوٹ یا معافی نہیں دی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ تیز رفتاری کے اوپر موٹروے پولیس نے 750 روپے جرمانہ پر اتفاق کر لیا، اس روش کو بدلنا ہو گا، تیز رفتاری کرنے والا سفر شروع کرنے سے پہلے ہی ڈیش بورڈ پر جرمانہ کی رقم رکھ لیتا ہے اور پھر وہ بار بار خلاف ورزی کرتا ہے، خلاف ورزی کے عادی ڈرائیورز کو اب ایک حد تک رعایت کے بعد ڈرائیونگ لائسنسوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو گاڑیاں روڈ پر چلنے کے قابل نہیں ہوں گی انہیں موٹروے اور قومی شاہرات پر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی میں آئندہ تعمیر ہونے والی سڑکوں میں اس بات کو مدنظر رکھا جائیگا کہ ان پر سیاحت کے فروغ کیلئے مختلف مقامات پر تفریحی مقام بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان روڈ سیفٹی سے متعلق ڈیٹا کی باہمی ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا، سیٹ بیلٹ کی پابندی سے گاڑی چلانے والے کی اپنی زندگی کو محفوظ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنانا ہے اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہیں۔ مراد سعید نے کہا کہ عوام اور ذرائع ابلاغ ہمارے ساتھ تعاون کریں، پاکستان کے شہریوں کو بہترین شاہراتی نظام دیں گے، روڈ سیفٹی اتھارٹی ایکشن پلان پالیسی کے اہم اہداف مقرر کئے ہیں اور اس حوالہ سے صوبوں میں بھی روڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کرانے کیلئے حکام سے رابطے کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی عناصر شاہرات کو بھی سیاست کا حصہ بنا لیتے ہیں، توڑ پھوڑ کرکے قومی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، اب یہ روش بدلنا ہوگی، نئے پاکستان میں ہم حادثات سے زندگیوں کے نقصان کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہرات پر سفر کرنے والوں کیلئے ناگہانی صورتحال کیلئے ٹراما سنٹرز کا قیام شروع کردیا گیا ہے۔